اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 136
136 قارئین کرام سے خصوصی گذارش ہے کہ تاریخی دستاویز کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ شیعہ کے عقائد کے مطابق کلمہ طیبہ کی تبدیلی ، عقیدہ تحریف قرآن، تکفیر صحابہ اور عقیدہ امامت میں امت مسلمہ کے عقائد سے یکسر انحراف کر کے من گھڑت اور خود ساختہ نئی شریعت اور نئے دین کی ترویج کی گئی ہے۔ان عقائد کا محمدی شریعت اور اسلامی عقائد سے دور کا بھی تعلق نہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے ( دیو بندی کہتے ہیں ) کہ سپاہ صحابہ کی طرف سے شیعہ کے کفر کے اعلان کو محض تعصب اور تنگ نظری پر محمول کرنا حقائق سے انحراف ہے۔شیعہ کے مذکورہ عقائد کے بعد اگر ایرانی حکومت یا دنیا بھر کا شیعہ اپنے اسلام کے دعوئی میں اگر اسی طرح اصرار کرتا رہے گا تو شرعی ذمہ داری کے مطابق ان کے کفر کا اعلان بھی اسی قوت اور جرات کے ساتھ ہوتا رہے گا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے کر دولت کے بل بوتے پر عام کیا جائے تو اس پر مسامحت یا چشم پوشی یا خاموشی اختیار کی جائے۔شیعہ عقائد کی تکفیر پوری امت مسلمہ کا بنیادی فریضہ ہے۔( تاریخی دستاویز صفحه 744) اور یہی نہیں بلکہ مفتی احتشام الحق صاحب نے انہی دنوں میں یہ بیان جاری کیا جب احمدیوں کو ناٹ مسلم قرار دیا گیا کہ اب مودودیوں کو بھی غیر مسلم قرار دیا جانا چاہئے ، اب میں آپ سے پوچھتا ہوں خدا کے لئے بتائیں اور سوچیں کہ وہ کون سی ملت اسلامیہ ہے جس کے سفیر اور جن کے وکیل ہونے کی حیثیت سے انہوں نے یہ موقف لکھا تھا۔سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ ملت اسلامیہ سے مرادان کی اصطلاح میں دیکھیں۔یہ تو تمام دنیا مانتی ہے اور متکلمین کا مشہور یہ علم کلام کے لحاظ سے کہ لِكُلِّ أَنْ يُصْطَلِعَ ہر شخص اپنی Terminology بنا سکتا ہے،اختیار ہے۔اس میں کسی کو اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ بالکل ویسی ہی بات ہے کہ جس طرح ایک دیو بندی شخص تھا اس سے کسی نے پوچھا کہ