اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی

by Other Authors

Page 87 of 623

اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 87

87 نمبر 20۔مولوی ظہور الحسن صاحب سیالکوٹ کے سینیٹر تھے۔انہوں نے خاکسار کی کتاب ”تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کے کردار کے تین سو نسخے سینٹ کے معزز ممبروں کو پیش کئے۔یہ تفصیل ہے جو آپ کے سوالات کے جواب میں عرض کر دی ہے۔حافظ محمد نصر اللہ صاحب مولانا محضر نامہ کے ساتھ اس میں درج حوالہ جات کے ماخذ پر مبنی لٹریچر کے علاوہ اور کئی کتابیں، فوٹوسٹیٹس اور قلمی نسخے ، فائلیں اسمبلی میں جمع کروائی گئیں۔جب واپس لی گئیں تو اس وقت کیا ان سے استفادہ کیا گیا تھا؟ کیا حالت تھی ان کی؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب : سبحان اللہ۔یہ شانِ بے اعتنائی کا ایک مظاہرہ تھا۔جب ہم وہاں پر گئے تو ہم نے دیکھا کہ دونوں ٹرنک گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں۔جب ہم نے کہا کہ یہ ٹرنک ہیں؟ ان کا تو حلیہ ہی بگڑ گیا ہے۔تو جو صاحب کتابوں کے دینے والے تھے اور جنہوں نے ہمیں اطلاع دی تھی کہ یہ فارغ ہو گئی ہیں۔آپ لے جائیں۔تو وہ ذہین آدمی تھے۔ہمارے اس سوال پر کہنے لگے۔مولانا آپ کیا بات کرتے ہیں۔یہ بڑے اونچے دماغ کے لوگ تھے۔ان کو ضرورت ہی نہیں پڑی، نہ نوبت آئی ہے کہ ان کو دیکھ سکیں۔اس واسطے جس طرح آپ رکھ گئے تھے ویسے ہی حاضر ہیں۔جالا بھی لگا ہوا ہے اور گردوغبار سے بھی اٹی ہوئی ہے۔قیاس کن زگلستان من بهار مرا د محضر نامہ کا خلاصہ ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔یہ جو محضر نامہ پیش کیا گیا یہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے تھا یا نا ظر اعلیٰ کی طرف سے تھا؟ مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ جماعت کی طرف ہے تھا۔اشاعت اس کی ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ نے کی تھی مگر پڑھ کر سنانے والے خود حضرت خلیفہ اسیح الثالث تھے۔ڈاکٹر سلطان احمد مبشر صاحب:۔مولا نا ہم چاہیں گے کہ جو ابواب ”محضر نامہ" میں دیئے گئے ان کے عناوین پڑھ کر سنا دیں تا کہ پھر بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب :۔یہ بہت ہی اہم چیز ہے۔حافظہ کو ریکارڈ کرنے کا یہ