رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 90 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 90

عبرانی زبان کا قاعدہ ہے کہ بھا" لگانے سے جمع بن جاتی ہے۔ان معنوں کی تائید قرآن مجید بھی کرتا ہے۔سورۃ التحمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً کہ ابراہیم ایک امت تھا۔س حضرت ابراہیم کا نام رکھے جانے میں کیا پیشگوئی محنتی تھی ؟ حضرت ابراہیم کا نام اپنی تصرف سے ان کے باپ کی زبان سے ایرام رکھوایا گیا جس میں اُن کی آئندہ زندگی کا ایک اجمالی نقشہ پیش کر دیا گیا ہے۔اور اس میں یہ پیش گوئی مخفی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بہت اچھی طرح صداقت کے اظہار کے لیے بحث کرنے کی توفیق دے گا۔قرآن مجید میں متعدد واقعات ملتے ہیں جن سے آپ کا اسم با مسمیٰ ہونا ثابت ہے۔بادشاہ وقت سے جب آپ نے سورج کے طلوع و غروب کے متعلق بحث کی اور دلیل دی تو قرآن مجید میں آتا ہے: فَبُهِتَ الَّذِي كَفَ (سورہ بقرہ) کہ وہ کافر بادشاہ حیران رہ گیا۔اس طرح آپ کے یہ نام رکھے جانے میں یہ حکمت بھی تھی کہ آپ عالم روحانی کے باپ ہوں گے اور آئندہ اصلاح آپ سے اور آپ کی نسل سے مخصوص ہوگی۔حضرت ابراہیم نے پیغام حق کی ابتداء کہاں سے شروع کی ؟ ج۔حضرت ابراہیم نے پیغام حق کی ابتداء اپنے گھر سے شروع کی کیونکہ آپ کے والد مشترک تھے۔بت پرست تھے۔آپ نے انہیں تہوں کی عبادت کرنے سے لہر دیکھا یہ کہا کہ اسے میرے باپ! تو کیوں ان چیزوں کی پرستش کرتا ہے جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھتی ہیں اور نہ تجھ سے کوئی تکلیف