رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 88
^^ شروع ہی سے آپ کو حق کی بصیرت اور رشد و ہدایت عطا کی تھی۔آپ اس یقین پر قائم تھے کہ بہت نرسن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔آپ اپنے باپ کو خود اپنے ہاتھوں سے بتوں کو تراشتے اور فروخت کرتے دیکھتے اور سوچتے کہ وہ کس طرح خدا کے ہمسر ہو سکتے ہیں۔آپ بچپن ہی سے بہت عمدہ بحث کرنے والے تھے۔شی: حضرت ابراہیم کے بچپن کا کوئی واقعہ بتائیں میں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ کو بتوں سے نفرت تھی اور توحید کے قائل تھے۔ج : یہودی روایات میں آپ کے بچپن کا یہ واقعہ درج ہے کہ ایک دفعہ باپ نے انہیں دوکان پر بٹھا دیا کہ اگر کوئی بہت خرید نے کے لیے آئے تو اُسے بت دے دیا۔ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک بڑھا شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں کوئی بت خرید نا چاہتا ہوں۔انہوں نے پو چھا کون سابت لیں گے۔اس نے ایک بت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ فلاں ثبت مجھے چاہیے وہ اٹھے اور ثبت لاکہ اس کے سامنے رکھ دیا اور پھر پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے۔اس نے کہا کہ میری عمر ستر سال کی ہے۔حضرت ابراہیم نے کہا کہ یہ بہت تو ابھی کل ہی بین کر آیا ہے اس بڑھے پر بات کا ایسا اثر ہوا کہ وہ اس بیت کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔جب ان کے بھائیوں کو یہ بات معلوم ہوتی تو انہوں نے باپ سے شکایت کی کہ یہ تو ہمارے گاہک خراب کرتا ہے۔باپ نے حضرت ابراہیم سے پوچھاتو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔جس پر باپ نے آپ کی خوب خبر لی۔اور یہ پہلی تکلیف تھی جو توحید کی راہ میں اس پاک باز استی نے اٹھائی۔شی: حضرت ابا ایٹم کی زندگی کا نمایاں وصف کون سا تھا ؟ ج :- حضرت ابراہیم کی زندگی کا نمایاں وصف تھا صداقت کی تائید کے لیے دلائل اور راہیں پیش کرنا اور اپنے مخالفت سے اعلی درجہ کی بحث کر کے اُسے