رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 78
شکر فرستادوں نے حضرت لوط کو تسلی دیتے ہوئے کیا کہا ؟ ج : فرستادوں نے حضرت لوط کو تسلی دی اور کہا کہ نڈر اور نہ آئندہ کا خوت کرے۔کیو نکہ خدا نیکی کے بیج کو ضائع نہیں کرے گا۔ہم تجھے کا دور تیرے گھر والوں سوائے تیری بیوی کے جو پچھلے رہ جانے والوں میں شامل ہو جائے گی سنجات دینے والے ہیں۔ہم اس بستی پر ان کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔جیسا کہ سورۃ عنکبوت آیت ۳۴ ۳۵ میں اس کا ذکر آیا ہے۔۔فرستادوں نے حضرت لوط سے یہ کہا کہ خُدا کا فیصلہ ہو چکا ہے اب ان کی تیا ہی کا وقت آچکا ہے۔اس لیے تو رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کولے کہ تیزی سے یہاں سے چلا جا۔اور تم میں سے کوئی بھی فرداد ھر ادھر نہ دیکھیے۔ہاں تیری بیوی ایسی ہے کہ جو عذاب اُن پسا کیا ہوا ہے وہ اس پر بھی آئے گا۔جیسا کہ سورہ ہو در آیت ۸۲ میں ذکر ہے۔قالوا يا لوطُ إِنَّا رُسُلُ رَيَّاكَ لن يسلوم الياكَ فَاشْرِ بِأَهْلِكَ يقطع مِنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَد إِلَّا امْرَانَكَ إِنَّهُ مصيبها ما أصابهم انہوں نے عذاب کے آنے کا وقت کیا بتایا ہے ؟ ج :۔انہوں نے بتایا کہ مذاب صبح صبح آئے گا، جیسا کہ : اِن مَوعِدُهُم العالي الشيخ تقریب میں بتایا گیا ہے ان کا مقررہ وقت آئندہ صبح ہے اور کیا صبح قریب نہیں ہے۔(سورۃ ہود) س، وہ فرشادے حضرت لوط کے پاس کسی خاص مقصد کے لیے آئے تھے ؟ ج:- وہ فرستادے حضرت لوط کے لیے خدا تعالٰی کے حکم کے مطابق آئندہ کے لیے رہائش گاہ کا انتظام کرنے کے لیے آئے تھے تا کہ وہ عذاب کے آنے سے پہلے