رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 60 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 60

۶۰ ترجمہ :۔ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت نازل کی اور اس قوم کو مار کر زمین کے برابر کر دیا۔کس : قرآن مجید نے اس ہلاکت آفرین آواز کو جس سے صالح کی قوم ہلاک ہوئی کسی کسی نام سے تعبیر کیا ہے ؟ ج :- 1- صاعقہ کڑک دار بجلی۔نے حضر۔زلزلہ ڈال دینے والی شے۔طانیہ۔دہشت ناک - صحه - چیخ - شی : - حضرت صالح نے بلاک شدگان کو مخاطب ہو کہ کیا کہا ؟ ج : حضرت صالح نے فرمایا۔لِقَوْمٍ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصْحْتُ لَكُمْ وَلكِن لا تحبون النايمين حضرت صالح کا یہ خطاب اسی طرح کا خطاب تھا جس طرح بدر میں مشرکین مکہ کے سرداروں کی ہلاکت پر حضور نے مردہ نعشوں کے گڑھے پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا۔ل: کیا مردے اس خطاب کو سن سکتے تھے ؟۔ج :۔اس قسم کا خطاب انبیاء کی خصوصیات میں سے ہے۔اس لیے اللہ ان کے اس کلام کو بلاشبہ مردوں کو سنوا دیتا ہے۔اگر چہ وہ جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔جب حضور نے مشرکین کی لاشوں کو خطاب کیا تھا تو حضرت عمرض نے تعجب سے پوچھا تھا۔کیا یہ سن رہے ہیں یا آپ نے فرمایا۔ہاں تم سے زیادہ۔گھر جواب سے عاجز ہیں۔دوسرے اس سے زندہ انسان جو ان کے اس انجام کو دیکھ ر ہے