رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 143
صفت صدق ہو۔) -۲ حضرت ابراہیم معلم خیر تھے۔یعنی دنیا کو نیکی کی تعلیم دینے والے تھے۔۲۔حضرت ابراہیم مجا مع المیر تھے۔سب قسم کے اخلاقی فاصلہ ان میں پائے جاتے تھے۔۵- حضرت ابراہیم نہایت اعلیٰ فطرت رکھتے تھے آپ کے اندروہ طاقتیں اور استعدادی موجود تھیں جن سے امتیں پیدا ہوئی تھیں۔۔آپ خدا تعالے کے کامل فرمانبردار تھے اور بہت دعائیں کرنے والے تھے۔آپ موحد تھے ، شرک سے آپ کو سخت نفرت تھی۔اپنی ہر ایک خوبی کو نعمت خداوندی سمجھتے تھے۔-۸- آپ تمام نعماء الہی پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے آپ خدا تعالی کے شکر گزار بندے تھے اور ترقیات کے موقعہ پر آپ کا ایمان اور بڑھ جایا کرتا تھا۔ان تمام صفات کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو پسند کر کے اسے چن لیا اور اپنا بر گزیدہ بنا لیا۔آپ کی ان صفات کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں بھی ترقیات سے نوازا اور آخرت میں بھی صالحین میں آپ کا شمار ہو گا۔سورۃ النحل کی یہ آیات آپ کی خداداد صفات پر دلیل ہیں۔ان ابوا منه كَانَ أُمَّةً قَانِتَا لِلَّهِ حَنِيفًا ط وَلَو يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، شاكراً لأنعمة اجْتَبَه وهَدُ لَهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيه وانيد في الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لمِنَ الصَّالِحِينَ۔ترجمہ : یقینا ابراہیم ہر ایک خیر کا جامعہ اللہ کے لیے تذلیل اختیار