رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 69
49 تالوالين لم تنتهِ بلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ ) ترجمہ :۔انہوں نے کہا۔اسے ٹوط ! اگر تو باز نہ آیا تو تو ملک بدر کیئے جانے والوں میں شامل ہو جائے گا۔ی: حضرت لوط علیہ السّلام نے اُنھیں کیا جواب دیا ؟ جمہ آپ نے دُعا کی اور ان کے عمل کو نفرت سے دیکھا اور آپ نے فرمایا۔الي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ ) ترجمہ :۔یقیناً میں تمہارے عمل کو نفرت سے دیکھتا ہوں۔سنگی - حضرت لوط علیہ السلام کی اس بات سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ ج : حضرت لوط علیہ السلام کی اس بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عمل بد سے نجات مانگنی چاہیئے اور یہ کہ برے اعمال سے ہمیشہ نفرت کرنی چاہئیے نہ کہ گمراہ اور خطا کار انسان کو قابل نفرت سمجھنا چاہیئے۔- سی۔کیا حضرت لوط علیہ السلام کی جد و جہد کا کو کوئی نتیجہ نکلا ؟ ج بھی نہیں۔حضرت لوط علیہ السلام کی لگا تار کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا بلکہ سدوم اور نمونہ کے سرکش لوگ بے حیائی کے کاموں میں پڑے رہے تب حضرت لوط علیہ السّلام نے انہیں عذاب الہی سے ڈرایا تا کہ وہ اپنی بے حیائیوں اور بد کہ والیوں سے یا نہ آجائیں۔ی۔عذاب الہی کی غیر سن کر قوم لوط نے حضرت لوط علیہ السلام سے کیا مطالبہ کیا ؟ جہ قوم لوط نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ڈراتے ہو اُسے لے آؤ۔هما كان حوابَ قَوْمِ اللَّدْ أَنْ قَالُوا الْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ O ستش۔قوم کی جانب سے اس نے خونی اور بے باکی کے مظاہرہ پر حضرت لوگ نے