رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 68
MA سالوت الركرانَ مِنَ الْعَالَمِينَ، وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُوتُ بِكُمْ من أن واحكُمْ بَلْ أَنتُمْ قَوْمُ عُدُونه ترجمہ۔کیا تمام مخلوقات میں تم نے نروں کو اپنے لئے چنا ہے اور تم ان کو چھوڑتے ہوا اور جن کو تمہارے رب نے تمہاری بیویوں کی حیثیت سے پیدا کیا ہے بلکہ تم حد سے بڑھی ہوئی قوم ہو۔سورۃ اعراف میں آتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کرتے ہو کہ تم سے پہلے ساری قوموں میں سے کسی نے نہیں کی تھی۔شی قوم نے آپ کی نصائح کا کیا جواب دیا ؟ ج :- قوم لوط پر حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت الی الحق اور پاکیزگی اور پاکدامنی کی زندگی بسر کرنے کی ترغیب بہت گراں گزری۔بجائے اس کے کہ وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے طنز کہنے لگے کہ ہم تمہاری پاکیزگی کو جانتے ہیں۔تم بڑے نیک بنے پھرتے ہو۔تم تو ایک ایسا گروہ ہو جو نیکی اور تقویٰ کا دعویٰ کرتے ہو لیکن نیک نہیں ہوا اور ہمیں تمہارے مشورے کی کوئی ضرورت نہیں۔شش۔قوم لوط نے آپ کو کیا دھمکی دی ؟ جو انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بستی سے نکال دینے کی دھمکی دى جيسا كہ سورۃ اعراف اور سورۃ نمل میں آتا ہے۔فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوا ال لوط من فرتكة إِنَّهُمْ أَنَّاسُ يَتَطَهَّرُونَ ) تو جمہ۔اس پر اس کی قوم نے صرف یہی کہا کہ اے لوگو ) لوط اور اس کے ساتھیوں کو شہر سے نکال دو وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی پاکیزگی پیرا تر اتے ہیں۔اور سورۃ الشعراء میں آتا ہے۔