انبیاء کا موعود — Page 54
نوکروں کو جو پہلوں سے بڑھ کر تھے بھیجا۔انہوں نے ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا۔آخر اس نے اپنے بیٹے کو یہ کہ کر بھیجا کہ دے میرے بیٹے سے وہیں گے۔لیکن با غبانوں نے پینے کو دیکھا۔آپس میں کہنے لگے کہ وارث بیجا ہے آؤا سے مار ڈالیں کہ اسکی میراث ہماری ہو جائے اور اسے پکڑ کے اور انگورستان کے باہرلے جا کر قتل کیا۔“ اب حضرت مسیح اپنے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ " اب انگورستان کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا '' شاگرد جواب دیتے ہیں کہ ردان بدوں کو بری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا۔جوا سے موسم پر میوہ پہنچا دیں " دمتی باب ۲۱ آیت ۳۲۳ تا ۴۲ ) اس واقعہ میں گھر سے کائنات مراد ہے۔اس کا مالک خدا تعالیٰ ہے۔جو انگورستان دیتا ہے۔باغبان بنی نوع انسان ہیں۔نوکروں سے مراد اس کے انبیاء کرام ہیں۔وہ نوکر جو پہلے سے بڑھ کر تھے۔اس کا مطلب ہے صاحب شریعیت نبی۔بیٹے سے مراد حضرت عیسی " خود ہیں جن کو صلیب دی گئی۔اب حضرت عیسی نے اس واقعہ میں تمام انبیاء کی تاریخ بیان کی ہے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو بنایا۔انسانوں کو اس میں بسایا اور پھر اپنے انبیاء کرام کے ذریعہ ان انسانوں میں سے بہترین انسان کو توفیق دی کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کو مانیں جو نبی کا درجہ رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کی بشری صلاحیتوں کو مزید چپکا دیں۔اور وہ باغ کا میوہ بن جائیں۔جس طرح پھل درخت کا سب سے قیمتی حصہ ہوتا ہے اسی طرح خدا کے نبی کو ماننے والے بھی دنیا کے تمام انسانوں میں سب سے قیمتی ہوتے ہیں وہ پھل ہیں اس کائنات کا۔انسانیت کا جو انبیاء کرام خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔کہ اسے ہمارے مالک۔ہمار سے رب۔ان انسانوں کو ہم تیر سے دربار میں لائے ہیں۔جنہوں نے ہمیں مانا۔اور تیر سے حکم پر تیری اطاعت