انبیاء کا موعود — Page 8
10 آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان تمام باتوں سے آنے والے دارت کا کیا تعلق ؟ بھٹی تعلق تو ہے۔وہ اس طرح کہ حضرت ابراہیم کی بڑی خواہش تنویم، منفی کر وہ بابرکت وجود میری نسل میں سے پیدا ہو۔اور اللہ میاں بھی اپنے اس بندے کو اس کی اس خواہش کو بڑے پسیار سے دیکھ رہا تھا۔اس انسان (ابراہیم میں ایسی خوبیاں نظر آر ہی نہیں کہ جن کی وجہ سے خوش ہو کر وہ ان کو اس انعام سے نواز دیتا۔لیکن اس پاک اور مقدس وجود کے لئے جو تیاری کرنی تھی کہ اس روئے زمین پر اس کو کس علاقے ہیں۔کسی قوم میں پیدا کرے کیونکہ اس قوم کی صفات بھی دنیا کی دوسری قوموں سے الگ ہونی چاہئیں۔پھر اللہ میاں کی چند نشانیاں جو اس نے اس دنیا میں قائم کیں ان میں سے ایک اس کا گھر تھا جو خانہ کعبہ ہے۔وہ چاہتا تھا کہ اس گھر کا محافظ اس گھر کے قریب ہو۔پھر صرف وہی اس گھر سے پیار نہ کرے۔اس کی حفاظت نہ کرے بلکہ اس کے آباؤ اجداد ، باپ دادا بھی اس گھر کی عظمت کے قائل ہوں۔ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیکھیں کہ جب حضرت اسمعیل خدا کے وعدے کے مطابق حضرت ہاجرہ کے ہاں پیدا ہوئے تو خدا نے اپنے پیارے بند سے ابراہیم کو حکم دیا کہ اس کو میرے گھر کے پاس چھوڑ آؤ۔وہ تو ایسا عاشق بندہ تھا۔ایسا اطاعت گزار فرماں بردار کہ اس نے فوراً اس معصوم جان کو اس کی ماں کے ساتھ مکہ کے ویرانے میں چھوڑ دیا۔یوں خدا تعالیٰ نے اپنے گھر کو دوبارہ دنیا کا مرکز بنانے کی بنیاد رکھ دی۔اور حضرت اسمعیل کی اولاد کو جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا۔ان کو بڑی قوم بناؤنگا ان کو ۱۲ بیٹے دیئے۔اور عرب ان کی ہی اولاد ہیں۔یہ بارہ بیٹے بارہ سردار تھے