انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 58 of 69

انبیاء کا موعود — Page 58

۶۴ کے حسن کو پیچھے چھوڑ دے گا۔مذہب کی عمارت جو آہستہ آہستہ بن رہی منفی جس میں ہر نبی ایک اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے پھر اس عمارت میں سکون اور ہیم شریعت والے نبی تھے لیکن چونکہ یہ عمارت بنی اسرائیل کی قوم میں تیار ہو رہی تھی اس لئے اس کے راجگیر جو علماء تھے انہوں نے اس قیمتی پتھر کو جب ان کو ملا تو ایک طرف رکھ دیا یعنی رد کر دیا بیکار جانا مگر چونکہ وہ عمارت کا حسن تھا اس لئے وہی سرے کا پتھر بنا اور آپ کے بعد عمارت اپنے تمام حسن آرائش کے ساتھ مکمل ہو گئی۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ آنے والے موعود کو جس کو پتھر کہا گیا وہ کس طرح پیارے آقا ہیں۔وہ ایسے کہ آگے پیشگوئی میں بتایا کہ جو اس پتھر پر گرے گا چور چور ہو جائے گا اور جس پر یہ ہمھر گر گیا اس کو پیس ڈالے گا۔یہودی اپنی کتابوں میں اور عیسائی اپنی تعلیم میں آپ کے بارے میں بڑی تفصیل سے جانتے تھے کہ آنے والا کیسا ہوگا۔اس کی تعلیم کیسی ہو گی۔اس کی جمات کیسی ہوگی۔لیکن جب پیارے آقا نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو سب سے زیادہ مخالفت انہوں نے کی اور آپ کو آپ کی تعلیم کو آپ کے پیغام کو رد کر دیا کہ نہیں ہے مگر جب یہ آپ سے ٹکرائے تو ریزہ ریزہ ہو گئے۔حالانکہ ان کی بڑی طاقت تھی۔اور جب مسلمانوں نے ان کی حکومتوں پر حملہ کیا تو ان کو پیس ڈالا گویا آپ کے خلفاء کے زمانے میں آپ کے ماننے والوں نے ان قوموں کی طاقت کو ختم کر دیا اور دنیا میں ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی عظمت چھائی رہی اور حضرت عیسی نے جو کہا تھا کہ خدائی بادشاہت لے لی جائے گی۔وہ بنی اسرائیل سے ان کے ظلم کی وجہ سے چھینی گئی اور یہ بادشاہت بنو اسمعیل کو عطا کی گئی تاکہ وہ دنیا میں رحم کو قائم کریں اور مسلمانوں کے حسن و احسان کی داستانوں سے آج بھی تاریخ بھری