انبیاء کا موعود — Page 47
اور پیارے آقا نے ساری دنیا کو اسلام کی دعوت دی اور خدا نے آپ کو ساری دنیا کے لئے نبی بنایا۔پھر فرماتے ہیں کہ " میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔" یعنی جو خدا کہیگا دہی وہ آگے سنا دیگا۔یہ شان صرف اور صرف قرآن پاک کو حاصل ہے کہ وہ خدا کا کلام کہلاتا ہے۔یہ کلام اللہ ہے۔اس میں ایک لفظ تبھی کسی انسان کا شامل نہیں۔بسم اللہ کی "ب" سے لے کر والناس کی سی تک سارے کا سارا خدا کا بیان کیا ہوا پر حکمت کلام ہے۔اور جو باتیں پیارے آقا نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے بتانے کے لئے کہی ہیں وہ حدیث کہلاتی ہیں۔اور حدیث کی زبان اور قرآن پاک کی زبان میں بڑا فرق ہے حالانکہ حدیث قرآن پاک کی تشریح ہے تعلیم رہی ہے لیکن طرز کلام اور طرز بیان الگ الگ ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ ایک خدا کا کلام ہے جو قرآن پاک اور دوسرا اس کے محبوب کا کلام ہے جو حدیث ہے۔آگے آتا ہے کہ " جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔اب حضرت موسی کے بعد سوائے رسول کریم کے کوئی نبی ایسا نہیں کہ جو خدا نے ان کو کہا ہو وہ سب کا سب اپنی امت کو سنا دیں۔اس لئے کہ بعض باتیں خدا تعالیٰ صرف اپنے نبی کی ہدایت کے لئے دیتا ہے لیکن رسول کریم کو خدا نے خود کہا کہ اسے رسول پہنچا سنا دے وہ سب کچھ جو تجھ پر اتارا گیا تیرے رب کی طرف سے (سورۃ مائدہ) پھر بتایا گیا کہ " اور جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہیگا۔نہ سنیگا تو میں اس کا حساب لوں گا " اس نشانی میں بھی سوائے قرآن پاک کے کوئی کتاب ایسی نہیں جس کی ابتداء اس مقدس کتاب کی طرح ہوتی ہو یعنی بسم الله الرحمن الرحيم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔نہ صرف شروع میں بلکہ ہر سورۃ