انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 46 of 69

انبیاء کا موعود — Page 46

۵۲ تو نبی کئی ملتے ہیں۔مگر وہ سب بنی اسرائیل میں آئے یعنی حضرت اسحاق کی اولاد ہی تھے۔پھر سب کے سب توریت کی شریعیت کو ہی بار بار زندہ کرتے رہے بینی جو بھی شریعت میں کمی یا زیادتی ہوئی وہ اس کو درست کرتے رہے۔بنی اسرائیل کو اسی شریعت کی پابندی کرواتے رہے اور کوئی نئی شریعت نہیں آئی۔حتی کہ حضرت عیسی۔وہ بھی چونکہ حضرت داؤر کی اولاد سے ہیں اور حضرت داؤد حضرت اسحاق کی اولاد ہیں۔وہ بھی کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔انجیل جو عیسائی نئی شریعت کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ بھی تو ریت کی تعلیم کا ہی حصہ ہیں۔اور حضرت عیسی خود فرماتے ہیں کہ میں توریت یا نیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے نہیں آیا۔بلکہ پوری کرنے کے لئے آیا ہوں۔(گلتون باب ۳) حضرت عیسی ابنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں کیونکہ ان کے بعد جو جلیل القدیر اور بڑے مرتبے کا نبی نظر آتا ہے وہ بنو اسمعیل میں سے عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوا۔اور وہیں سے اس نے اپنی نبوت کا دعوی کیا۔گویا یہ عظیم الشان نبی حضرت موسی کے بھائیوں میں سے ظاہر ہوا۔اس مقدس انسان پہ جو کتاب نازل ہوئی وہ قرآن پاک ہے۔اسی قرآن پاک میں گواہی موجود ہے کہ ہم نے تمہاری طرف تم میں سے ایک رسول بھیجا جس طرح فرعون کی طرف ہم نے رسول بھیجا تھا۔سورة مرتل آیت 14 اور یہ آخری شریعت ہے۔اس طرح یہ بلند مقام والا انسان حضرت موسی کی طرح صاحب شریعت نبی تھا۔اور یہ نبی ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفے ہیں۔اب اگلی نشانیوں میں حضرت موسی فرماتے ہیں کہ " میں ان کے لئے ان بھائیوں میں سے تجھ سانبی برپا کروں گا۔یعنی بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ بنی ہوگا کیونکہ کہا کہ ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے۔گویا آنے والا بنی اسرائیل کو بھی پیکان گیا