انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 39 of 69

انبیاء کا موعود — Page 39

۴۵ اور کچھ نہ ہو اس سے کیسے پیار نہ کیا جائے۔ایسے وجود سے تو خود بخود پیار ہو جاتا ہے اور جن لوگوں نے اس محبوب کی جھلک دیکھی اور دیکھ کر اپنی قوم کو پکارا کہ جب بھی تم کو ملے تو صرف اور صرف اس سے محبت کرنا۔اور یہی بات حضرت سلیمان نے بھی اپنی قوم کو بتائی کہ جیسے تم مجھ کو مانتے ہو۔میرا احترام کرتے ہو۔مجھ سے محبت کرتے ہو۔میری اطاعت کرتے ہو تو یاد رکھو وہ میرا محبوب ہے۔میری جان ہے۔اس کو کبھی نہ دکھ دیا۔صرف پیار کرتا اور عشق کرنا گویا آپ کی ذات جیسے کہتے ہیں اسم با مسمیٰ بالکل یہی بات ہے۔آپ جب ان نشانیوں کو پڑھ رہے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ خدا کس طرح اپنے پیارے کے لئے قوموں کو تیار کر رہا تھا۔ساتھ ہی دل سے بے اختیار ان مقدس افراد کے لئے بھی محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جنہوں نے آپ سے محبت کی حضرت سلیمان کا کلام کیونکہ شاعرانہ کلام ہے اور شاعر اپنے محبوب کو اپنی پسند کے ناموں سے پکارتا ہے۔کبھی محبوب کو مونث یعنی عورتوں کی طرح خواہ وہ مرد ہی کیوں نہ ہو۔اور کبھی مذکر یعنی مرد کی طرح خواہ وہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔یہ تو ہر شاعر کے کلام میں نظر آتا ہے۔اب ، چنانچہ حضرت سلیمان اپنے محبوب کو سب ہی پیار کے رشتوں سے پکارتے ہیں کبھی بہن کہتے ہیں۔کبھی نہ وجہ۔کبھی ہوا۔( باب ۴ آیت ۱-۱۰) آپ نے پیارے آقا کو بہن اس لئے کہا کہ آپ حضرت اسمعیل کی اولاد سے ہیں۔اور حضرت سلیمان۔حضرت اسحاق" اس لئے دونوں کی اولاد آکس میں بھائی بھائی ہوئے اور آپ نے بھائی کی میگہ بہن کہہ دیا۔پھر زوجہ بوا کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہن بھائی ایک گھر سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن چونکہ اسلام کی تعلیم ساری دنیا کے لئے تھی۔ہر قوم کے لئے ہر