انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 37 of 69

انبیاء کا موعود — Page 37

۴۳ کیونکہ بغیر ہے۔اور ہر پکارنے والے کی آواز کو سنتا ہے کیونکہ سمیع ہے اس لئے اسی ذات پر ایمان لاؤ۔اس کے در پر چھکو اور اسی سے مدد مانگو۔یہ تھا علاج جو اس ماہر معالج نے کیا۔(جو خدا کی طرف سے آیا تھا اور اس کا اثر اس معاشرے پر ایسا ظاہر ہوا کہ انسانوں میں تبدیلیاں آنے لگیں۔) ہر اخلاقی بیماری اور کردار کی کمزوری کے لئے جو علاج تجویز کیا وہ یہ تھا کہ " خدا کے سوا کوئی نہیں۔اور اس کی وجہ سے ایک ظالم ڈر گیا کہ مسجد سے بڑی اور طاقت ور ذات ہے جو دیکھ رہی ہے۔اگر اس نے پکڑ لیا تو کیا۔نے ہو گا۔وہ ظلم سے رک گیا اور یوں آہستہ آہستہ اخلاقی امراض درست ہونے لگے۔پھر لا الہ الا اللہ کی برکت سے انسانوں میں ایک طاقت پیدا ہوگئی۔ایک ایسی طاقت جو ہر مرمن سے لڑ سکتی تھی۔وہ مظالم سہتے ہوئے پیچھے نہیں ہٹے۔بلکہ آگے بڑھے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔وہ ایک طاقتور ذات ہم کو دیکھ رہی ہے ہماری فریاد سن رہی ہے۔اس میں اتنی قوت ہے کہ وہ ظالموں کو پکڑ لے۔چنانچہ وہ ماریں کھاتے ہوئے بھی خدا کے دامن سے چھٹے رہے اور ان میں جو خوف تھا مالکوں ، آقاؤں کا ، سرداروں اور حاکموں کا وہ خوف خدا کے خوف سے بدل گیا۔اس کی محبت میں ڈھل گیا۔پھر تاریخ نے ان کمزور وجودوں کو دیکھا کہ حضرت بلال ہو کے ہاتھوں جنگ بدر میں ان کا آقا امیہ بن خلف مارا گیا۔کیونکہ ان کی لڑائی ذات کی لڑائی نہیں تھی بلکہ وہ اپنے خدا کے دشمنوں سے لڑ رہے تھے۔پھر ایک جگہ بے شمار امراض جھوٹ۔زنا - شراب چوری کے مریض کو جو پر ہیز بتایا وہ یہ کہ جھوٹ چھوڑ دو۔اور وہ صحتیاب ہو گیا۔یہ تاثیر نقلی اس تعلیم کی اور یہ خوبی تھی اس معالج کی کہ اس کے کہوں سے