انبیاء کا موعود — Page 26
ہیں حمد سے پہلے ہم کو لگا دیا جائے تو محمد بن جاتا ہے اور محمد کے معنی ہیں جسکی بے پناہ تعریف ہو۔قابل ستائش۔لائق تحسین اور محمد نام سوائے ہمارے آقا کے کہ کا نہیں۔آپ کا نام جب آپ کے دادا جان نے محمد رکھا اور لوگوں کو اس انوکھے نام پر تعجب ہوا تو اس پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ اس کی ماں نے اس کی پیدائش سے پہلے خواب دیکھا تھا کہ اس کے وجود سے ایک نور نکلا ہو ساری دنیا میں پھیل گیا۔یہ بچہ بڑی عظمت اور شان والا ہوگا۔اور میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا اس کی تعریف ہے۔اب پیار سے آقا کی زندگی دیکھیں کہ دیسے ہی بچپن سے آپ کی پیاری پیاری عادتوں کی وجہ سے آپ کی تعریف ہوتی تھی۔پھر جب جوان ہوئے تو مکہ کے جوانوں سے بالکل مختلف بڑی پاکیزہ عادتیں اور حسین اخلاق۔اس لئے سارا مکہ آپ کا دیوانہ ہو رہا تھا۔اس کے بعد جب نبوت کا دعوی کیا اور سارے مخالف ہو گئے اس کے با وجود ان کو محمد کہہ کر گالیاں دینے یا برا بھلا کہنے کی جرأت نہیں تھی۔وہ مذمم کہہ کو گالی دیتے تھے۔گویا محمد ایک ایسا نام تھا جو سوائے تعریف کے بولا ہی نہیں جا سکتا تھا۔اور یہ نام اس پاک وجود کا تھا جو خدا کا ، اس کی خدائی کا ، اس کی بادشاہت کا تنہا وارث تھا۔پھر ایک اور نشانی بتائی کہ اس کی جگہ گا ہٹ نور کی مانند ہے۔آپ کی ذات میں خدا تعالیٰ نے ایسی خصوصیات رکھ دی تھیں کہ ان کی وجہ سے اس تاریکی کے دور میں بھی ایک روشنی تھی جو پھیل رہی تھی۔یعنی آپ کا بولنا۔ہنستا۔چلنا پھرنا لوگوں کے ساتھ سلوک ، غریبوں سے محبت غلاموں سے پیار رشتہ داروں سے حسن سلوک ، دشمنوں سے صلہ رحمی یہ سب آپ کے پاکیزہ اخلاق کی چند کرنیں ہیں۔پھر بچپن سے ہی صادق اور امین مشہور ہو جانا۔بعثت کے بعد انتہائی دشمنی سے ہوتے ہوئے بھی اپنی قیمتی چیزیں آپ کے پاس ہی رکھنا یہ سب کیا تھا۔