انبیاء کا موعود — Page 20
پھر خدا تعالیٰ توجہ دلا رہا ہے۔سمجھا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کے گھرانے دور ہیں۔ایک یہودی۔ایک عیسائی۔ان دونوں کو اپنی شریعیت پر بڑا نا نہ ہے اور یہ غرور اور تکبر میں بھی دنیا کی دوسری قوموں سے آگے نکل گئے ہیں۔اس لئے یہ دونوں گھرانے، اس سے ٹکرائیں گے یعنی اس کو ماننے میں تکلیف ہوگی۔حالانکہ ان کی کتابوں میں اس موعود نبی کے بارے میں بڑے واضح اور کھلے کھلے نشانات موجود ہیں۔تھا یہ اپنی طبیعت کی وجہ سے ایک نشان کے بعد دوسرا نشان پھر تیرا اور پوتی مانگتے چلے جائیں گے۔جب ہر بات واضح ہو جائے گی تب بھی کہیں گے کہ نہیں۔ہے تو وہی مگر ہم اس کی مخالفت کریں گے۔اس جگہ ایک واقعہ بتا دوں کہ ام المومنین حضرت صفیہ اپنے والد حتی بن احطب اور چچا ابو یا سر کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔فرماتی ہیں کہ جب آنحضرت مدینہ ہجرت کرکے پہنچے تو بہت لوگ آپ سے مل رہے تھے۔بعض ایمان لے آئے اور ابض رہ جاتے۔ان میں میرے والد اور چچا بھی تھے۔ایک دفعہ جب یہ مل کر آئے تو بڑے اداس اور تھکے ہوئے سے بیٹھے گئے۔جیسے بڑے دکھ میں ہم میں ہوں۔میرے چچا نے پوچھا کیا یہ وہی ہے۔باپ نے جواب دیا۔خدا کی قسم رہی ہے۔چچانے پوچھا کہ آپ جانتے ہیں اور تحقیق کرلی ہے جواب دیا ہاں۔پھر چچا نے پوچھا۔پھر دل میں کیا خیال ہے اس کے بارے ہیں۔جواب دیا۔واللہ جب تک زندہ رہوں گا اس سے دشمنی کروں گا۔سلے دیکھا آپ نے یہ حال تھا بنی اسرائیل کے گھرانے کا۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو کراتا نہیں لیکن یہ خود اس سے کراتے ہیں پھر خدا تعالیٰ ان ہ سیرۃ ابن ہشام جلد اول صفحہ ۵۷۵۷۶