انبیاء کا موعود — Page 18
۲۴ اب آنحضرت کے زمانے کو دیکھیں تو یہ وہ واحد زمانہ ہے جب بڑے بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت، مجوسیت کے ہوتے ہوئے۔ان کی تعلیمات کے باوجود ان کی عظیم الشان حکومتوں کے باوجود دنیا کی حالت کیا تھی۔اور خود ان اقوام کی حالت کو دیکھیں تو اخلاق اور کردار کے لحاظ سے ان میں انسانیت بھی باقی نہیں رہی تھی۔یہ وہ تو میں ہیں جن میں الہامی تعلیمات موجود تھیں۔لیکن سب بیکار اور بے معنی ظلم انتہار کا تھا۔ان کے بادشاہ سردار اپنی قوم کے غریب انسانوں پر ایسے مظالم کرتے تھے کہ ان کو بیان کرنا مشکل ہے۔پھر وہ قومیں جن میں کوئی تعلیم نہیں تھی ان میں سب سے آگے غریب قوم ہے۔بت پرست مشرک پھر اندر ہیں۔دوسرے اقوام کی حالت بھی دیسی ہی ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی خراب منفی۔قرآن پاک نے اسی نقشہ کو یوں بیان کیا کہ ظهر الفساد في البر والبحر کہ خشکی اور ترمی سب میں فساد پھیل چکا تھا۔ایسے وقت میں یہ خدا کا محبوب ظاہر ہوا اور اس کی تعلیمات کی روشنی نے سارے اندھیروں کو آہستہ آہستہ مٹانا شروع کیا (۱) شرک کی جگہ تو حید نے لے لی اور یوں آہستہ آہستہ پر اندھیرا روشنی سے دور ہونے لگا رہا، ظلم کی جگہ رحم لینے لگا۔(۳) دکھ کی جگہ سکھ آتا گیا ، غربت اور مفلسی کی جگہ قناعت، صبر اور توکل نے لی (ہ) انسانیت کی خدمت کے لئے قربانی کا جذبہ پیدا ہوا پھر جہاں بھی آپ کے ماننے والے گئے۔وہ اس تعلیم کو پھیلاتے رہے۔دکھ سمیٹتے رہے۔سکھ اور راحتیں بانٹتے رہے اور یوں انہوں نے ہر اندھیرے کو روشنی سے بدل ڈالا اور ان ساری نشانیوں میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو کسی اور پر پوری ہوئی ہو۔یہ صرف اور صرف میرے آقا آپ کے صحابہ اور