انبیاء کا موعود — Page 17
نے کہا کہ تو اور تیرا خدا جاکر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔اور حضرت عیسی کے بارہ نواریوں میں سے دس چھوڑ کر چلے گئے۔ایک نے مخبری کر دی اور پکڑوا دیا۔لیکن آنحضرت کے صحابہ نہ میں سے ہر ایک کی یہ حالت تھی کہ آپ پر فدا ہونا ان کا جزو ایمان تھا۔وہ اپنا سب کچھ۔مال و دولت اولاد رشته دارسب قربان کر دیتے تھے۔پھر بھی یہ حسرت ہوتی کہ ہم حق ادا نہ کر سکے۔ان کی اسی اعلیٰ ایمانی حالت کو دیکھ کر خُدا نے انہیں کہا کہ میرے بندو! میں تم سے راضی ہو گیا ہوں تم مجھ سے راضی ہو۔۔۔۔اگلی نشانیوں میں وہ حالات بیان ہوئے ہیں جب مسلمانوں کی حالت بہتر ہو چکی تھی کہ ان کی کما نہیں کشیدہ اور تیز تیز ہیں۔یعنی وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔پھر جب میدان میں اترتے ہیں تو اس تیزی اور پھرتی سے حملہ آور ہوتے ہیں کہ سوار ہوں کو روکتے ہوئے ان کے سموں سے آگ نکلتی ہے۔پھر اسی تیزی اور پھرتی کی وجہ سے گردو غبار کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔اس زمانے میں تو متقابل پر لڑائی کا رواج تھا۔اور میدانوں میں پہاڑوں میں دریاؤں میں لڑتے ہوئے جب وہ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زمین و آسمان اس آواز کی شدت سے گونج رہے ہوں۔جس طرح شیر کی دھاڑ سے جنگل گونج اٹھتا ہے ان کے نعروں سے صحرا د دشت و جبل کانپ جاتے ہیں پھر بتاتے ہیں کہ جب قابو پاتے ہیں تو کوئی ان سے چھڑا نہیں سکتا کیونکہ فرار کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں خوف و دہشت سے اب آپ دوسرے نبیوں کی امتوں کو دیکھیں تو کہیں بھی یہ منظر نظر نہیں آئے گا۔آگے ایک اور نشانی بتائی کہ " جب وہ زمین کو تاکیں گے تو اندھیرا اور تنگ حالی ہے اور روشنی ان کی بدیوں سے تاریک ہو جاتی ہے ؟"