انبیاء کا موعود — Page 7
اس کی ایک وجہ تھی کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ کس طرح میں اپنے خدا سے پیار کرتا ہوں کو نا میرا بیٹا ایسا ہو کہ وہ بھی اسی طرح محبت کرے بلکہ میری نسل اس کی خاطر یعنی خدا کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیا کرے۔اور پھر جب اللہ میاں نے ان کو بتایا کہ میں ایک ایسا وجود دنیا میں بھیجوں گا جو میرا سچا مظہر ہو گا۔صرف اور صرف میرا ہوگا اور میں اس کا ہوں گا۔تو اُن کے دل میں حدت سے تمنا پیدا ہوئی کہ کاش! میرے اولاد ہوتی اور وہ با برکت وجود میری نسل میں پیدا ہوتا۔اللہ میاں کو حضرت ابراہیم کی یہ تمنا کہ میری اولاد میری نسل بھی تجھ سے ایسا ہی پیار کرے جیسا کہ میں کرتا ہوں! تب خدا نے حضرت ابراہیم سے بہت سے وعدے کئے۔ان میں سے ایک وعدہ یہ تھا کہ دور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔تجھ کو مبارک اور تیرا نام بڑا کریں گا۔تو ایک برکت ہوگا۔ان کو جو تجھے برکت دیتے ہیں۔برکت دوں گا۔ان کو جو تجھے لعنت دیتے ہیں لعنتی کروں گا۔اور دنیا کے سب گھرانے تجھ سے برکت پائیں گے" پیدائش باب ۱۲ آیت ۳۰۲ یں اسے برکت دوں گا۔برومند کروں گا۔اسے بڑھاؤں گا۔اس سے بارہ سرا پیدا ہوں گے۔پیدائش باب ۱۷، آیت ۱۸ جب یہ وعدہ کیا گیا تو حضرت ابراہیم" بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔وہ حیران تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔میرا خدا کہ رہا ہے کہ میں تجھے بڑی قوم بناؤں گا۔پھر خدا تعالیٰ کے فرشتہ نے حضرت ہاجرہ کو بتایا کہ خدا نے کہا ہے کہ " میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے اگنی نہیں جائیگی " پھر فرشتے نے کہا کہ تیرا ایک بیٹا ہوگا۔اس کا نام اسمعیل رکھنا۔( پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۰)