انبیاء کا موعود — Page 63
49 لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَه ) کیونکہ آپ کی زندگی میں ایک عام انسان کی زندگی سے لے کر تمام انسانوں کی زندگیوں میں پیش آنے والے واقعات کو جمع کر دیا گیا تھا اور نہ صرف جمع کیا بلکہ ان واقعات میں ہر انسان کے لئے نمونہ رکھا۔بہترین نمونہ۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں چونکہ غریب ہوں تو کیسے زندگی گزاروں خدا کہتا ہے کہ جاؤ محمد کی زندگی کو دیکھو۔اس نے غربت میں مفلسی میں انتہائی سادہ زندگی گزاری۔وہ پیوند لگے کپڑے پہن لیتا ہے۔صرف کنجور پر گزارہ کرتا ہے۔اگر وہ بھی میسر نہیں تو شکر کر کے صرف پانی پی لیتا ہے۔تم کو فاقہ ہوتا ہے تو گلہ کرتے ہو لیکن وہ فاقوں میں بھی قنات اور سبر کی مثالی ہے۔وہ خدا کی بادشاہت کا۔اس کی سلطنت کا تنہا وارث ہے مگر اس کا گھر ایک چھوٹا سا کمرہ میں میں کوئی سامان نہیں۔سادہ سا بہتر ہے۔اسی طرح باری باری ہر انسان ، اپنے لئے اس زندگی سے سبق حاصل کر سکتا ہے۔تو جس طرح خدا بے عیب ہے یہ محبوب خدا بھی بے عیب ہے۔جیس طرح خدا تمام حسن کا مجموعہ ہے اسی طرح تمام حسن اس کی ذات میں بھی جمع ہو گئے ہیں۔جس طرح خدا کی ذات میں کوئی کمی نہیں کجی نہیں۔اسی طرح اس کے وجود میں بھی کیا جسمانی لحاظ سے۔اخلاقی۔روحانی۔ذہنی اور قلبی لحاظ سے کوئی کمی نہیں۔بلکہ ہر لحاظ سے اس میں خوبیاں ہی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔خدا کی ذات صفت رحمانیت کی مظہر ہے۔اسی طرح یہ بھی بلا تفریق مذہب ملت سب پر احسان کرتا ہے۔ان کو تعلیم دیتا ہے۔ان کی ہدایت کی دعائیں مانگتا ہے اور پھر کوئی مسلہ یا انعام اس کو نہیں چاہیئے۔اب ہم دیکھیں کہ خدا آپ کے وجود میں کیسے ظاہر ہوا تو جنگ بدر کے موقع پر جب آپ نے مٹھی بھر کنکریاں کفار کی طرف پھینکیں تو وہ ایک آندھی کی شکل