انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 16 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 16

32 31 (12 : یوسف: 87) کا باعث بنی۔اس صدمے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔٣- إِنَّمَا اَشْكُوا بَقِي وَ حُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ترجمہ: اس نے کہا میں تو اپنے رنج والم کی صرف اللہ کے حضور فریاد کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔خدا تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور معجزانہ حالات میں حضرت یوسف کو اپنے والد صاحب سے ملا دیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے حضرت اسحاق علیہ السلام کے پوتے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔بچپن میں ان کے دوسرے بھائیوں نے حسد کی بنا پر انہیں کنوئیں میں پھینک دیا تھا جہاں سے مسافروں نے نکال لیا اور مصر لے گئے۔خدا تعالیٰ نے وہاں قید کے ابتلا کے بعد آپ کو اعلیٰ افسر کا عہدہ دیا اور تعبیر الرؤیاء کا علم بھی دیا۔پھر آپ کے بھائی والدین کو لے کر آپ کے پاس آگئے ان غیر معمولی نعماء پر شکرانہ کے لئے مولا کریم کے حضور دعا کرتے۔ا - رَبِّ قَدُ اتَيُتَنِى مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ أنتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَّ قف (12: یوسف: 102) الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ ) ترجمہ: اے میرے ربّ! تو نے مجھے امور سلطنت میں سے حصہ دیا اور باتوں کی اصلیت سمجھنے کا علم بخشا۔اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو دنیا اور آخرت میں میرا دوست ہے۔مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زمرہ میں شامل کر۔حضرت طالوت علیہ السلام کی دعا حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد نبوت میں حضرت طالوت علیہ ا ایک علاقہ کے بادشاہ تھے۔جالوت ان کا طاقتور دشمن تھا۔وہ آمادہ پریکار رہتا۔حضرت طالوت کے پاس اُس سے نمٹنے کے لئے طاقت کم تھی۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔- رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (2: البقره: 251) ترجمہ :- اے ہمارے رب ! ہم پر صبر نازل کر اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش اور کا فرقوم کے خلاف ہماری مدد کر۔اللہ تعالیٰ رجوع برحمت ہوا قرآنی ارشاد ہے۔پس انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اُسے ملک اور حکمت عطا کئے اور اُسے جو چاہا اُس کی تعلیم دی اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کو ایک دوسرے سے بچانے کا سامان نہ کیا جاتا -