انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 6
12 تا کہ ہدایت پائیں۔11 دعا کی اہمیت اور فضیلت قرآن کریم کی روشنی میں دعا عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔بنیادی طور پر جس کے معنی پکارنے کے ہیں۔وسیع معنوں میں اس کا مفہوم مانگنے سوال کرنے یا نصرت طلب کرنے کا لیا جاتا ہے۔اصطلاح میں دعا سے مراد اللہ تعالیٰ کو اپنی مصیبت دور کرنے اور حاجتیں پوری کرنے کے لئے پکارنا اور اُس سے مدد مانگنا ہیں۔دُعا کرنے سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان گہرا تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔جس سے دین و دنیا کی حسنات ملتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاذْكُرُونِي اذْكُرُكُمْ (2: البقره: 153) ترجمہ: پس میرا ذکر کیا کرو۔میں بھی تمہیں یاد رکھوں گا۔- إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ طَأُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ترجمہ : اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں (2: البقرہ: 187) ہیں۔دعا کے لئے کوئی مخصوص قید نہیں ہر وقت ہر جگہ اور ہر حال میں کر سکتے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قَيْمًا وَّ قُعُودًا وَّ عَلَى جُنُوبِهِمْ (3: ال عمران : 192) ترجمہ: وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی۔دلوں کو سکون و راحت صرف اور صرف دعا عبادت اور ذکر الہی سے حاصل ہوتی ہے اس کے لئے کسی دنیاوی عیش وعشرت کے سامان کا ذکر نہیں - اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13: الرعد : 29) ترجمہ: سنو! اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں۔دعا سے غفلت قابل معافی نہیں ہے۔- وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ (40:المؤمن: 61) ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔یقیناً وہ لوگ جو میری عبادت کرنے سے اپنے تیں بالا سمجھتے ہیں ضرور جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔- وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ص (7: الاعراف: 181) ترجمہ: اور اللہ ہی کے سب خوبصورت نام ہیں۔پس اُسے