انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 30
59 مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَه ( تذکره ص 65) کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں۔یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کی رو سے اندھیری رات کی مانند ہے سوالہی قوتیں اور طاقتیں اس زمانے کی تنویر کے لئے درکار ہیں انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔( تذکره ص 65) آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دعاؤں کی اہمیت کو بخوبی سمجھنے کی توفیق دے اور ہم ہمیشہ اپنے مقاصد کی کامیابی اور پریشانیوں کو دُور کرنے کے لئے کثرت سے دعائیں کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ ہماری سب حاجات میں خود متکفل ہو۔( آمین اللھم آمین) پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رب ذوالمنن آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار عاجزانہ دعا ”اے رب العالمین تیرے احسانوں کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں ے کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو رتم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے آمین ثم آمین۔( مکتوبات احمد جلد پنجم ص 5) 6