انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 29 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 29

58 57 کہ میں نے خیال کیا کہ اب اس سے مفر نہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اُس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا میں نے اُس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اُس کے ساتھ رگڑ کر نکل جاؤں میں وہاں سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے خیال آیا کہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا مگر میں نے پھر نہ دیکھا اُس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی۔- رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَ انُصُرْنِي وَارْحَمْنِي۔اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسم اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو اسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے نجات ہو گی۔فرمایا اس میں بڑی بات جو سچی توحید سکھاتی ہے۔یعنی اللہ جل شانہ کو ہی ضار اور نافع یقین دلاتی ہے، یہ ہے کہ اس میں سکھایا گیا ہے کہ ہر شے تیری خادم ہے یعنی کوئی موذی اور مضر شے تیرے ارادے اور اذن کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں کر سکتی۔( تذکره ص 363) ( تذکره ص 556) ترجمہ: اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم کرے اس کے بعد حضور علیہ السلام نے اپنے مختلف رفقاء کو اپنے خطوط میں رکوع و سجود اور قیام میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد بتکرار صدق دل تذلل اور مجز سے یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔مکتوبات جلد 5 حصہ اول ص 38) ایک استفسار کے جواب میں حضرت اقدس نے اس دعا کو جمع کے صیغے کے ساتھ پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَ انْصُرُنَا وَارْحَمْنَا۔( ملفوظات جلد 4 ص 250) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک دفعہ ایک شخص نے اپنی مشکلات کا ذکر کیا تو آپ نے استغفار کثرت سے پڑھنے اور مندرجہ بالا دعا نمازوں میں پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔1899 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رویا میں دیکھا کہ آگ دھواں اور چنگاریاں اُڑ کر آپ کی طرف آتی ہیں مگر ضرر نہیں دیتیں اس حال میں آپ یہ دعا پڑھ رہے ہیں۔- يَا حَيُّ يَا قَيُوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ إِنَّ رَبِّي رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ترجمہ:- اے زندہ اور ہمیشہ اور ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی ہستی تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں یقیناً میرا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ا - وَهُوَ الله حفظًا وَ هُوَ أَرْحَمُ الرَّحِمِينَ (12: يوسف : 65) ترجمہ:۔پس اللہ ہی ہے جو بہترین حفاظت کرنے والا اور وہی سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔خدا خیر الحافظین ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔(تذکرہ : 84) - قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ٥ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ