انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 28
56 55 'جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے۔- سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ اور میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشتِ سینہ اور دونوں ہاتھوں پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔(تذکره ص26,25) چنانچہ اس کے مطابق عمل کیا گیا اللہ شافی نے معجزانہ شفا عطا فرمائی۔آپ نے حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا ہے کہ یہ دعا بہت پڑھنا چاہیے۔( تذکره ص 674) نوستمبر 1903 کو ایک وبائی بیماری میں خدا تعالیٰ نے اس کا علاج بتلایا کہ اس کے ناموں کا ورد کیا جاوے۔- يَا حَفِيظٌ يَا عَزِيزُ۔يَا رَفِيق ترجمہ از مرتب:- اے حفاظت کرنے والے۔اے غالب۔اے رفیق۔رفیق خدا تعالیٰ کا نیا نام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں ( تذکره ص 404) کبھی نہیں آیا۔پھر 27 جنوری 1905 کو حضرت اقدس کے دائیں رخسارِ مبارک پر ایک آماس سا نمودار ہوا جس سے بہت تکلیف ہوئی حضور نے دعا فرمائی تو ذیل کے فقرات الہام ہوئے دَم کرنے سے فوراً صحت حاصل ہو گئی۔بِسمِ اللهِ الْكَافِي بِسْمِ اللهِ الشَّافِي بِسْمِ اللهِ الْغَفُورِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الْبَرِ الْكَرِيمِ يَا حَفِيظٌ يَا عَزِيزُ يَا رَفِيقُ يَا وَلِيُّ اشْفِنِي ( تذکره ص 442) ترجمہ از مرتب : - میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو کافی ہے میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو شافی ہے۔میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو احسان کرنے والا کریم ہے۔اے حفاظت کرنے والے۔اے غالب۔اے رفیق اے ولی مجھے شفا دے۔- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو 1906 میں بیماری کی حالت میں یہ دعا الہام ہوئی۔اِشْفِنِي مِنْ لَّدُنكَ وَارْحَمُنِي ( تذکره : 523) ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اپنی طرف سے شفا بخش اور رحم کر۔مشکلات دور کرنے کے لئے دعا حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔رات کو میری ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اس خیال میں کوئی شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر میں ہوں اور وہ کوچہ سر بستہ سا معلوم ہوتا ہے۔کہ تین بھینسے آئے ہیں۔ایک اُن میں سے میری طرف آیا تو میں نے اُس کو مار کر ہٹا دیا پھر دوسرا آیا تو اُسے بھی ہٹا دیا پھر تیسرا آیا اور وہ ایسا پُر زور معلوم ہوتا تھا