انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 15 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 15

30 29 بلندی ہے اب تو میری نسلوں کو بھی توحید کا علمبردار بنا دے۔اور ان میں خیر الرسل خیر البشر رسول پیدا فرما۔- رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ایتكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔(2: البقرہ: 130) ترجمہ: اے ہمارے ربّ! تو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس) کی حکمت بھی سکھائے اور اُن کا تزکیہ کر دے۔یقینا تو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔(تفسیر قرطبی جلد ثانی ص117) حضرت لوط علیہ السلام کی دعا حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور اُن کے ساتھ ہی ترک وطن کر کے فلسطین آئے تھے۔یہاں سدوم میں جو لوگ آباد تھے وہ بہت ہی بد اخلاق اور ناپاک عادات میں مبتلا تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اصلاح کا فریضہ سونپ دیا۔آپ نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے بہت کوشش کی بار بار تنبیہ کی اور بُرے کاموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا مگر وہ اتنے گمراہ تھے کہ بجائے راہِ راست پر آنے کے کہنے لگے کہ تم وہ عذاب لے آؤ جس سے ڈراتے ہو۔حضرت لوط علیہ السلام نے مضطرب ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ (29: العنكبوت:31) ترجمہ :اے میرے ربّ! اس فساد کرنے والی قوم کے خلاف میری مدد کر۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہاں سے ہجرت کا حکم دیا اور وہ پہاڑ جس پر سدوم واقع تھا آتش فشاں بن کر پھٹا اور اس بستی پر آگ اور پتھروں کی اس قدر بارش ہوئی کہ زمین پھٹ گئی اور وہاں جھیل بن گئی۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی دعا آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے۔آپ کا لقب اسرائیل ہے اس لئے آپ کی نسل بنی اسرائیل کہلائی۔ان پر کافی تکالیف آئیں۔کنعان میں رہتے تھے آخری عمر میں اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر چلے گئے وہیں وفات پائی۔حضرت یوسف علیہ السلام بہت خوبصورت ، ذہین اور دیندار تھے۔ان خوبیوں کی وجہ سے اپنے والد کے بہت چہیتے تھے۔برادرانِ یوسف والد صاحب پر زور ڈال کر حفاظت کے وعدے کے ساتھ انہیں سیر کرانے کے لئے لے گئے وہاں اندھے کنوئیں میں پھینک کر والد صاحب کو جھوٹی کہانی سُنادی کہ یوسف کو بھیڑکے نے کھا لیا ہے۔باپ کے لئے بیٹے کی جدائی انتہائی صدمے