انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 14 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 14

28 27 فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمُ وَ ارْزُقُهُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (14 ابراہیم : 38) ترجمہ: اے ہمارے رب ! یقیناً میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں تیرے معزز گھر کے پاس آباد کر دیا ہے۔اے ہمارے ربّ! تاکہ وہ نماز قائم کریں پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں میں سے رزق عطا کرتا کہ وہ شکر کریں۔- رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَ تَقَبَّلُ دُعَاءِ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ۔( 14 ابراہیم : 42'41) ترجمہ: اے میرے رب ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔اے ہمارے رب ! اور میری دعا قبول کر۔اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور مومنوں کو بھی جس دن حساب بر پا ہوگا۔- رَبِّ هَبْ لِى حُكْمًا وَّ الْحِقْنِي بالصَّلِحِينَ وَاجْعَلُ لِى لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ۔وَ اجْعَلْنِي مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ o (26: الشعراء: 84تا86) ترجمہ: اے میرے رب ! مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کر۔اور میرے لئے آخرین میں سچ کہنے والی زبان مقدر کر دے۔اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان باوضو ہو کے اللہ کے نام سے حضرت ابراہیم کی یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت کا کھانا پینا عطا کرتا ہے اُس کی بیماری کو گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے اور اُسے سعادت مندوں والی زندگی اور شہدا والی موت نصیب ہوتی ہے۔گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں بخشے جاتے ہیں اُسے قوت فیصلہ اور صالحیت عطا ہوتی ہے اور دنیا میں اس کا ذکر باقی رکھا جاتا ہے۔(تفسیر الدرالمنثور للسيوطى جلد 4 ص89) خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ دعا پڑھ رہے تھے۔ا - رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا طَ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (2: البقره : 186) ترجمہ: اے ہمارے رب ہماری طرف سے قبول کر لے یقینا تو بہت ہی سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ایک نبی کی عاجزی و انکساری دیکھئے کہ حضرت اسماعیل کو وادی ذی زرع میں چھوڑا۔اُنھیں ذبح کرنے کو تیار ہو گئے۔پھر خانہ کعبہ کی عمارت بناتے ہوئے ایک طرح یہ فیصلہ فرما رہے تھے کہ حضرت اسماعیل اب دائمی جدائی اختیار کر کے یہیں آباد ہوں گے یہ سب قربانیاں کوئی معمولی بات نہیں تھیں مگر تذلیل کی انتہا ہے عرض کرتے ہیں میں نے اور اسماعیل نے ایک گھر بنایا ہے اسے تو اپنے رحم سے قبول فرما اور سچ مچ اس میں بس جا۔اسے بیت اللہ پھر حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ میں نے اپنی اولاد کو یہاں لا کر بسا دیا۔یہاں تیرا گھر بنا دیا جس سے غرض صرف تیرے نام کی بنا دے۔