انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 22 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 22

44 43 بحروبر میں پھیلے ہوئے فساد اور جہالت کو دُور کرنا آسان کام نہ تھا۔اس کے لئے آپ کو ارشاد ہوا فَصَلِّ لِرَبِّكَ اپنے رب سے دعا کر اور اس مقصد کے لئے ساری زمین کو آپ کے لئے مسجد بنا دیا گیا۔(صحیح بخاری کتاب الادب باب الرحمت) آپ کی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کا عجیب عاشقانہ گداز ملتا ہے تو کل علی اللہ اور ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ اُس کا خوف دامن گیر رہتا۔آپ کثرت سے دعائیں کرتے حتی کہ کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے۔روتے روتے ہچکی بندھ جاتی بے خودی میں کندھوں سے چادر گر جاتی آپ کہیں بھی ہوتے دل خدا تعالیٰ میں اٹکا رہتا۔اپنی امت کے لئے دعاؤں کے خزانے چھوڑ گئے۔آپ کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ وحی الہی پر مبنی ہوتا۔اس طرح ہر دعا اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی حامل ہے۔چند دعائیں درج ذیل ہیں۔- رَبِّ زِدْنِي عِلْماً (115:20) ترجمہ : اے میرے رب ! مجھے علم میں بڑھا دے۔ا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(2: البقره: 202) ترجمہ : اے ہمارے رب! ہمیں دُنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔1 - حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔( بخاری کتاب الدعوات ) 2- ایک روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو طواف بیت اللہ کے دوران یہ دعا کثرت سے پڑھتے سنا گیا۔3 - حج اور عمرہ کے موقع پر خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت حجر اسود سے شروع کرتے ہوئے ہر چکر میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے 4-حضرت انس سے کسی نے کہا کہ ہمارے لئے دعا کریں۔حضرت انسؓ نے دعا پڑھی۔اس نے مزید دعا کا تقاضا کیا تو حضرت انس نے فرمایا تمہیں اور کیا چاہیے۔تمہارے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی تو مانگ چکا ہوں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ہر نماز کی آخری رکعت میں بعد رکوع یہ دعا کثرت سے پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔(ملفوظات جلد اول ص 6) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کے برگزیدہ بندوں کے لئے سلامتی کی دعا سکھائی گئی۔* قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ سَلَمٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى ط (27: النمل : 60) ترجمہ: کہہ دے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور سلام ہو اس کے بندوں پر جنہیں اس نے چن لیا۔ایک روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے تھے۔لَا إِله إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( بخاری کتاب الدعوات ) ترجمہ:- اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اور تعریف اُسی کی ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان کے بیان