انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 12
24 23 تعالیٰ نے آپ کو متنبہ فرما دیا تھا کہ اب یہ قوم یا اس کی آئندہ نسلیں کبھی ایمان نہیں لائیں گی۔حضرت نوح کو ذاتی طور پر تو اس کا علم نہیں ہو سکتا تھا لازماً اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر آپ نے یہ بد دعا کی تھی۔تفسیری نوٹ از ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع ص 1082) حضرت نوح نے خدا تعالیٰ سے رحم کی عاجزانہ دعا۔ا - رَبِّ اغْفِرْلِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلْمُؤْمِنَتِ * وَلَا تَزِدِ الظَّلِمِينَ إِلَّا تَبَارًا (71 : نوح : 29) ترجمہ : اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی اور اُسے بھی جو بحیثیت مومن میرے گھر میں داخل ہوا اور سب مومن مردوں اور سب مومن عورتوں کو۔اور تو ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھانا۔“ حضرت نوح کی قوم نے جب آپ کی تکذیب میں حد کر دی اور آپ کو جھوٹا اور مجنون قرار دیا تو سخت پریشان ہو کر آپ نے اپنے ربّ کو اس دردناک طریق پر پکارا۔- اَنِى مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ (54) القمر :11) ترجمہ: میں یقیناً مغلوب ہوں۔پس میری مدد کر۔آپ کی قوم پر پانی کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے الہاماً ایک کشتی بنانے کا حکم دیا جس میں عذاب کے وقت اپنے متبعین اور ضرورت کی اشیاء کے ساتھ سوار ہوئے یہ کشتی جودی مقام پر جا ٹھہری تھی۔آپ نے کشتی پر سوار ہوتے وقت دعا کی۔بِسمِ اللَّهِ مَجْرِهَا وَ مُرْسَهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رحیم (11: هود : 42) ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ ہی اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا ہے۔یقیناً میرا رب بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہ دعا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کئی مرتبہ الہام ہوئی۔رَبِّ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ ترجمہ : میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔( تذکرہ:71) 24 اپریل 1903 کو دوبارہ ان الفاظ میں الہام ہوا۔أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ۔فَسَحِقُهُمْ تَسْحِيقًا ترجمہ: اے میرے رب میں ستم رسیدہ ہوں میری مدد فرما اور انہیں اچھی طرح پیس ڈال۔( تذکره : 389) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو بتوں کی پوجا سے منع کرتے اور ایک خدا کی طرف بلاتے تھے۔آپ جب اپنے باپ کو اورلوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھتے تو بہت افسوس ہوتا ایک دن آپ نے اپنے باپ آذر کے بت خانہ کے سارے بت توڑ دئے۔توحید کی تبلیغ سے بے زار ستارہ پرست اور بت پرست قوم نے آپ کو بھڑکتی آگ میں پھینک کر جلا ڈالنے کی سزا تجویز کی۔آگ بھڑکائی گئی مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا۔قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَّ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيم