انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 11
22 21 21 غمه و حزنه لهذه الامة و انزل عليه انوار رحمتک الی الا بد“ برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد 6 ص 10-11 ) حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی دعا قرآن کریم میں ارشاد ہے۔اور ہم نے کہا اے آدم! تو اور تیری زوجہ جنت میں سکونت اختیار کرو اور تم دونوں اس میں جہاں سے چاہو با فراغت کھاؤ مگر اس مخصوص درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔پس شیطان نے ان دونوں کو اس ( درخت ) کے معاملے میں پھسلا دیا پس اُس نے انہیں نکال دیا جس میں وہ پہلے تھے اور ہم نے کہا تم نکل جاؤ ( اس حال میں کہ ) تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لئے (اس) زمین میں ایک عرصہ تک قیام اور استفادہ (مقدر) ہے۔پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے پس وہ اس پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا یقیناً وہی بہت توبہ قبول کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔یہاں شجرہ سے مراد وہ احکام شریعت ہیں جو مناہی سے تعلق رکھتے ہیں وہ (2: البقره: 36 تا 38) احکام اگر توڑے جائیں تو پھر دنیا میں انسان کے لئے امن اُٹھ جاتا ہے۔ترجمه قرآن مجید از حضرت خلیفۃ اسیح الرابح ص 15 اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو یہ دعا سکھائی اور قبول فرمائی۔ا - رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَ إِنْ لَّمْ تَغْفِرُلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (7: الاعراف : 24) ترجمہ: ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم گھاٹا کھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا آج کل آدم کی دعا پڑھنی چاہیے یہ دعا اول ہی مقبول ہو چکی ہے۔( ملفوظات جلد 2 ص 577) حضرت نوح علیہ السلام کی دعائیں حضرت نوح علیہ السلام حضرت آدمؑ کے بعد پہلے تشریعی نبی تھے۔نوح کا مطلب ہے کثرت سے آہ و بکا کرنے والا۔حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دن رات توحید کی تبلیغ کی مگر آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔آپ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ سب قوم ایمان لے آئے اور کافر کوئی نہ رہے۔”اے میرے رب ! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بستا ہوا نہ رہنے دے یقیناً اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور بدکار اور سخت ناشکرے کے سوا کسی کو جنم نہیں دیں گے۔(71): سورہ نوح: 28127) حضرت نوح کا اپنی قوم پر جس بد دعا کا ذکر ہے وہ اس بناء پر تھی کہ اللہ