حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 14
حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ 14 آپ غریبوں ، خادموں اور ضرورت مندوں سے ہمدردی کرنے والی اور اُن کی عزت کا خیال رکھنے والی تھیں۔ایک مزے دار واقعہ پڑھئے۔آپ کو یہ تو پتہ ہے کہ حضرت سیدہ ہر وقت لجنہ کے کاموں میں مصروف رہتی تھیں۔ایک دفعہ اسی طرح بہت سا کام تھا فرش پر کپڑا بچھا کر رجسٹر بکھیر کر کام کر رہی تھیں ، گھر کی خادمہ نے آکر پوچھا سالن پکا دوں آپ نے کہا مائی ! پہلے نماز پڑھ لو پھر سالن پکا لینا۔مائی نے گوشت نکال کر رکھا ہوا تھا آپ کے کہنے پر نماز پڑھنے چلی گئی۔جب نماز پڑھ کر آئی تو دیکھا گوشت تو بلی کھا گئی۔ایسے موقع پر کچھ ڈر تو لگتا ہی ہے فوراً آپ کو بتایا کہ گوشت بلی کھا گئی ہے اب کیا پکاؤں ؟ آپ نے خادمہ کو ڈانٹا نہیں بلکہ ماتھے پر بل ڈالے بغیر جلدی سے اُسے کہا اچھا مونگ کی دال پکا لو اور پھر کام میں لگ گئیں۔اتنے میں کیا دیکھتی ہیں کہ حضرت خلیفہ اُسیح الثانی سامنے کھڑے ہیں گوشت کی جگہ مونگ کی دال سُن کر شوہر نے بھی نہیں ڈانٹا بلکہ اس کم عمر دین کی خادمہ کو کہا ” دال پکا لو امتہ الحی کے گھر کی مونگ کی دال بھی مجھے قورمہ پلاؤ سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔‘ (13) 66 قادیان کے دکاندار عام طور پر دوسرے شہروں سے ہجرت کر کے