حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 25
حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ 25 پاس بلا لیا۔10 دسمبر 1924 ء بروز بدھ سوا تین بجے دو پیر صرف تمھیں سال چار ماہ کی عمر میں اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ آپ سے بے حد خوش تھیں اور آپ سے بے حد شفقت سے پیش آتیں۔اپنے چھوٹے چھوٹے کام حضرت سیدہ سے کہتیں تو آپ بخوشی کرتیں۔آپ کے خطوط لکھ دیا کرتیں ادبی مزاج کی وجہ سے بھی آپ کو اس گھرانے میں قدر و عزت ملی۔حضرت اماں جان نے ایک بات کا کئی دفعہ ذکر فرمایا:۔تمہاری ماں کمرے کی کھڑکی سے منہ نکال کر مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ایک دن آواز نہیں آئی تو میں نے کہا آج میری بلبل کیوں نہیں چہچہائی تو فورا جواب دیا و ”منقار میں چھالے ہیں کیونکہ منہ میں چھالے ہو گئے تھے۔اس برجستہ جواب کا ذکر اماں جان کئی دفعہ پیار سے کرتیں۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتیں ہیں: امتہائی بہت چاہنے والی ، بہت تابعدار بیوی ثابت ہوئیں ذہانت تو غضب کی پائی تھی۔اشارہ بات کا پا جاتی تھیں۔اشعار سے بھی دلچسپی تھی۔اشعار کو اُن کے اصل معنوں میں خوب سمجھتی تھیں۔اُن کی