اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 43
لوگوں پر اثر ہوتا ہے۔لیکن مربیان، امراء اور عہدے داران کا کام ہے کہ اپنے پروگرام اس نہج سے رکھیں کہ یہ پیغام اور اس بناء پر بنائے ہوئے پروگرام بار بار جماعت کے سامنے آئیں تا کہ ہر احمدی کے ذہن میں اُس کا دائرہ عمل اچھی طرح واضح اور راسخ ہو جائے۔پس یہ بہت اہم چیز ہے جسے اُن سب کو جن کے سپرد ذمہ داریاں ہیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔اصلاح کے ذرائع کا جوسب سے پہلا حصہ ہے، جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ قوتِ ارادی کی مضبوطی ہے۔یا دوسرے لفظوں میں ایمان ہے جس کے پیدا کرنے کے لئے انبیاء دنیا میں آتے ہیں اور تازہ اور زندہ معجزات دکھاتے ہیں وہ انبیاء۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کے پاس تو اللہ تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانات کا اتنا وافر حصہ ہے کہ اتنا سامان کیا، اس سامان کے قریب قریب بھی کسی اور کے پاس موجود نہیں۔اور اسلام کے باہر کوئی مذہب دنیا میں ایسا نہیں جس کے پاس خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام اُس کے زندہ معجزات اور اُس کی ہستی کا مشاہدہ کرانے والے نشانات موجود ہوں، جو انسانی قلوب کو ہر قسم کی آلائشوں سے صاف کرتے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے لبریز کر دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس ایمان کے اور باوجود ان تازہ اور زندہ معجزات کے پھر کیوں ہماری جماعت کے اعمال میں کمزوری ہے؟ اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خیال کا اظہار یوں فرمایا ہے کہ وجہ یہ ہے کہ سلسلے کے علماء، مربیان اور واعظین نے اس کو پھیلانے کی طرف خاص توجہ نہیں دی۔یہ حضرت مصلح موعود کی بات جس طرح آج سے پچھہتر ، چھہتر سال پہلے صحیح تھی ، آج بھی صحیح ہے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اور جوں جوں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے دور جارہے ہیں ہمیں اس طرف مکمل planning کر کے توجہ کی ضرورت ہے۔پس آپ کا یہ فرمانا آج بھی قابل توجہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وفات مسیح پر جس شد و مد سے تقریریں کرتے ہیں یا معترضین کے اعتراضات پر حوالوں کے حوالے نکال کر جو اُن کے یعنی اُن معترضین کے بزرگوں کے اقوال ہیں ، معترضین کے سامنے ہم پیش کرتے ہیں اور اُن کا منہ بند کر دیتے ہیں۔اتنی کوشش جماعت کے افراد کے سامنے جماعت کی ۴۳