اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 51
پوری کی جاتی ہے۔یا اُن کی مدد دو طرح سے ہوگی۔ایک تو نگرانی کر کے، جس کی میں نے ابھی تفصیل بیان کی ہے کہ نگرانی کی جائے تو بدیاں چھوٹ جاتی ہیں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے لیکن وہ طبقہ جو بالکل ہی گرا ہوا ہو، جو گرانی سے بھی باز آنے والا نہ ہو، اُسے جب تک سزا نہ دی جائے، اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔پس ان چاروں ذرائع کو جماعت کی اصلاح کے لئے بھی اختیار کرنا ضروری ہے۔اور ہر ایک کی بیماری کا علاج اُس کی بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے کرنا ضروری ہے۔یہ بات یا درکھنا ضروری ہے کہ جس زمانے میں مذہب کے پاس نہ حکومت ہو نہ تلوار اُس زمانے میں یہ چاروں علاج ضروری ہوتے ہیں۔پہلے علاج کے طور پر تربیت کر کے ایمان میں مضبوطی پیدا کرنا ضروری ہے۔اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات، آپ کی وحی، آپ کے تعلق باللہ اور آپ کے ذریعہ سے آپ کے ماننے والوں میں روحانی انقلاب کا ذکر کیا جائے۔یہ ذکر متواتر اور بار بار ہونا چاہئے۔یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت انسان کو کس طرح حاصل ہو سکتی ہے اور اُس کا پیار جب کسی انسان کے شامل حال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس سے کس طرح امتیازی سلوک کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمیں اس بارے میں کس طرح بتایا ہے۔نئے احمدی جو مختلف قوموں سے ہو رہے ہیں، افریقہ میں سے بھی اور عربوں میں سے بھی زیادہ تر ، اپنے واقعات لکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھ کر اُن میں تبدیلیاں ہوئیں، اُن کے ایمان میں اضافہ ہوا۔بیشک کتب پڑھ کر اُن کی اعتقادی غلط فہمیاں بھی دور ہوئیں اور اعتقادی لحاظ سے اُن کے علم میں اضافہ ہو کر اُن کو ایمان کی نئی راہیں نظر آئیں۔لیکن ایمان کی مضبوطی اُن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات کو دیکھنے، آپ کی وحی کی حقیقت کو سمجھنے اور آپ کے تعلق باللہ سے اُن میں پیدا ہوئی، اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بعض نشانات دکھا کر اپنے قرب کا نظارہ دکھا دیا۔