اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 46
تعالیٰ اپنی تمام تر قدرتوں کے ساتھ جلوہ دکھاتا ہے۔پس نیکیوں کو حاصل کرنے کی تڑپ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی تڑپ ہماری جماعت میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ایسا پیدا ہوسکتا ہے جو گناہ کو بہت حد تک مٹادے گا، گناہ کو مکمل طور پر مٹانا تو مشکل کام ہے، اس کا دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جاسکتا ہے۔یا اکثر حصہ جماعت کا ایسے لوگوں پر مشتمل ہوگا اور ہوسکتا ہے جو گناہوں پر غالب آ جائے۔پس اس کے لئے ہمارے مربیان اور امراء اور عہدے داران کو اپنے اپنے دائرے میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بتا کر اصلاح کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کی کامل پیروی کرنے والے خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے اور ایسے لوگوں کی اکثر دعاؤں کو خدا تعالیٰ سنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں اور مجھے لکھتے بھی رہتے ہیں۔بعض واقعات کا مختلف وقتوں میں ذکر بھی ہوتا رہتا ہے، میں بیان بھی کرتا رہتا ہوں۔پس ایسے واقعات نقل کی تحریک کرنے کے لئے بیان کئے جاتے ہیں۔انہیں سُن کر نقل کرنا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ سے قرب کا رشتہ قائم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ دنیا میں جس قدر قو میں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔کیا کوئی عیسائی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے۔وہ میری دعا کو سنتا اور جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے، جس نے کہا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : ۶۱) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا۔پس یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقیناً اس میں طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔یا جماعت کے ایک بھاری حصے میں یہ طاقت پیدا ہو سکتی ہے اور اُس کی قوتِ ارادی ایسی مضبوط ہو سکتی ہے کہ وہ ہزاروں گناہوں پر غالب آ جائے اور اُن سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے