اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 15

موعود کہتے ہیں ہماری جماعت میں ہر قسم کے اعمال کے لحاظ سے ایسے نمونے ملتے ہیں جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ صحابہ کے نمونے ہیں لیکن ہمیں اس پر خوش نہیں ہونا چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ ساری جماعت ایسی ہو جائے۔پس جب تو جہ دلائی جائے تو اُس کو غور سے سننے کے بعد پھر اُس کو عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے اور یہی جماعت کی ترقی کا راز ہے اور یہی چیز جو ہے انسان کو صحیح عبد بناتی ہے۔آپ فرماتے ہیں پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے اُن پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے۔انسان کے اندر کمزوریاں خواہ پہاڑ کے برابر ہوں، اگر وہ چھوڑنے کا ارادہ کر لے تو کچھ مشکل نہیں۔فرمایا کہ اس وقت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست اپنی اپنی اولادوں کی اور جماعت کے دوسرے نوجوانوں کی اصلاح کریں۔اپنی اصلاح کریں۔جھوٹ ، چوری ، دغا، فریب، دھوکہ، بد معاملگی ، غیبت وغیرہ بد عادات ترک کر دیں۔حتی کہ اُن کے ساتھ معاملہ کرنے والا محسوس کرے کہ یہ بڑے اچھے لوگ ہیں۔اور اچھی طرح یا درکھو کہ اس نعمت کے دوبارہ آنے میں تیرہ سو سال کا عرصہ لگا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہمیں ملی۔اگر ہم نے اس کی قدر نہ کی اور پھر تیرہ سوسال پر یہ جا پڑی تو اس وقت تک آنے والی تمام نسلوں کی لعنتیں ہم پر پڑتی رہیں گی۔اس لئے کوشش کرو کہ اپنی تمام نیکیاں اپنی اولادوں کو دو اور پھر وہ آگے دیں اور وہ آگے اپنی اولا دوں کو دیں۔اور یہ امانت اتنے لمبے عرصے تک محفوظ چلی جائے کہ ہزاروں سالوں تک ہمیں اس کا ثواب ملتا جائے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نیکی کسی شخص کے ذریعہ سے قائم ہو، وہ جب تک دنیا میں قائم رہے اور جتنے لوگ اُسے اختیار کرتے جائیں اُن سب کا ثواب اُس شخص کے نام لکھا جاتا ہے۔پس جو بدلہ ملتا ہے وہ بھی بڑا ہے اور امانت بھی اپنی ذات میں بہت بڑی ہے۔اس طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔الفضل 26 اگست 1936 ء۔بحوالہ خطبات محمود۔جلد 17 صفحہ 547 تا 559) ۱۵