اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 14
میرے دفتر کے سپر نٹنڈنٹ ہیں۔اگر میں ان کے لڑکے کو سزا دوں گا تو میرے انصاف کی دھوم مچ جائے گی۔اس لئے شاہ صاحب کو بلایا اور پوچھا کہ کیا واقعی آپ کے لڑکے نے قتل کیا ہے۔آپ نے فرمایا۔میں تو وہاں موجود نہ تھا لیکن سنا ہے کہ کیا ہے۔اُس نے کہا کہ آپ اُسے بلا کر کہہ دیں کہ وہ اقرار کر لے تا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ہم کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔آپ نے اپنے لڑکے کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اس شخص کو مارا ہے۔اُس نے کہا ہاں مارا ہے۔آپ نے فرمایا پھر سچی بات کا اقرار کر لو۔لوگوں نے کہا کیوں اپنے جوان لڑکے کو پھانسی لٹکوانا چاہتے ہو۔مگر آپ نے فرمایا کہ اس دنیا کی سزا سے انگلی دنیا کی سزا زیادہ سخت ہے اور اپنے بیٹے کو یہی نصیحت کی کہ اقرار کر لے۔لیکن خدا کی قدرت کہ اُس نے اقرار تو کر لیا مگر وہ لڑکا کرکٹ کا کھلاڑی تھا اور وہ مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ تھا، وہ بھی کرکٹ کھیلنے والا تھا، اُسے کرکٹ کلب میں معاملہ کی حقیقت معلوم ہوگئی اور چونکہ قانون ایسا ہے کہ اگر مجسٹریٹ کو کسی بات کا یقین ہو جائے تو ملزم سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔اُس نے خود ہی پولیس کے گواہوں پر ایسی جرح کی کہ اُس لڑکے کی بریت ثابت ہوگئی اور اس نے اس وجہ سے کچھ پوچھے بغیر ہی اُسے رہا کر دیا۔تو سچائی کی وجہ سے وہ اس سزا سے بھی چھوٹ گئے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اسی قسم کا ایک مقدمہ پچھلے دنوں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے بھائی پر ہوا۔چوہدری صاحب اُس وقت ولایت میں تھے۔( یہاں لندن میں تھے )۔انہوں نے اپنے بھائی کو لکھا کہ یہ ایمان کی آزمائش کا وقت ہے۔اگر تم سے قصور ہوا ہے تو میں تمہارا بڑا بھائی ہونے کی حیثیت سے تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اس دنیا کی سزا سے اگلے جہان کی سزا زیادہ سخت ہے۔اس لئے اسے برداشت کر لو اور سچی بات کہہ دو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ سیالکوٹ کے رہنے والے ہمارے ایک دوست ہیں جو ابھی زندہ ہیں۔احمدی ہونے کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ رشوت لینا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے تو انہوں نے تمام اُن لوگوں کے گھروں میں جا جا کر جن سے وہ رشوتیں لے چکے تھے، واپس کیں۔اس سے وہ بہت زیر بار بھی ہو گئے۔مقروض ہو گئے۔مگر اس کی انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔تو حضرت مصلح ۱۴