اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 13
که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔ایک دفعہ بعض صحابہ نے آپ کے پاس کسی مجرم کی سفارش کی تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو وہ بھی سزا سے نہیں بچ سکے گی۔تو تقویٰ اور طہارت ایسی نعمت ہے کہ اس کے حصول کے لئے انسان کو کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو ہمیں دولت ملی ہے وہ اعلیٰ اخلاق ہی ہیں اور اپنی اولادوں کو اُن کا وارث بنانا ہمارا فرض ہے۔اور اگر غفلت کی وجہ سے اس میں کوئی کوتا ہی ہو جائے تو مومن کا فرض ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ نہ دکھائے ، بلکہ اُسی وقت اس سے علیحدہ ہو جائے جس نے جرم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اس کی ایسی مثالیں ہمیں دکھائی ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کرنا ناممکن۔ہے۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی اور دیانت کے واقعات : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے، اُن کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سید حامد شاہ صاحب مرحوم بہت مخلص احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کو اپنے بارہ حواریوں میں سے قرار دیا تھا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میرے سامنے بھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے حواریوں کے نام گنے تو ان کا بھی نام لیا تھا۔اور پھر ان کے نیک انجام نے اُن کے درجہ کی بلندی پر مہر بھی لگادی۔ایک دفعہ اُن کے لڑکے کے ہاتھ سے ایک شخص قتل ہو گیا۔مگر یہ قتل ایسے حالات میں ہوا کہ عوام کی ہمدردی اُن کے لڑکے کے ساتھ تھی۔یہ جو بزرگ صحابی سید حامد شاہ صاحب تھے، ان کے بیٹے سے قتل ہوا لیکن حالات ایسے تھے کہ اس قتل کے باوجود عوام الناس ان سے، ان کے بیٹے سے ہی ہمدردی کر رہے تھے۔کیونکہ مقتول کی زیادتی تھی جس پر لڑائی ہو گئی اور اُن کے لڑکے نے اُسے مکہ مارا اور وہ مر گیا۔وہ ایسے ہی واقعہ ہوا جیسے حضرت موسیٰ کے زمانے کا واقعہ ہے۔سیا ہے۔سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر جو انگریز تھا، وہ ایسے افسروں میں سے تھا جو جرم ثابت ہو یا نہ ہو، سزا ضرور دینا چاہتے ہیں تا رعب قائم ہو جائے۔اُسے خیال آیا کہ میر حامد شاہ صاحب ۱۳