اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 12

بھیجا کہ اس لشکر کو روک لیں۔کیونکہ اگر بوڑھے بوڑھے لوگ یا بچے ہی مدینہ میں رہ گئے تو وہ باغی لشکروں کا مقابلہ کس طرح کر سکیں گے۔یعنی جو دوسرے باغی لوگ تھے اُن کا مقابلہ مدینہ کے یہ بوڑھے کس طرح کر سکیں گے۔مگر حضرت ابوبکر نے اُن کو یہ جواب دیا کہ کیا ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ طاقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لشکر کو روک لے۔خدا کی قسم ! اگر باغی مدینہ میں داخل بھی ہو جائیں اور ہماری عورتوں کی لاشوں کو کتے گھسٹتے پھریں ، تب بھی وہ لشکر ضرور جائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کو آپ سے کتنا عشق تھا مگر چونکہ آپ صدیقیت کے مقام پر تھے اس لئے جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی عظمت اس سے بھی زیادہ ہے۔پس ان لوگوں نے خدا تعالٰی کی بھیجی ہوئی تعلیم کو لیا اور اسے قائم رکھا۔حتی کہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اُسے ذرہ بھر بھی نہیں بدلا گیا۔عیسائی، ہندو، یہودی غرضیکہ سب مخالف قو میں تسلیم کرتی ہیں کہ قرآن کریم کا ایک شعشہ بھی نہیں بدلا۔آپ پھر آگے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے میں ایک جماعت ایسی موجود تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ نسلوں میں بھی یہی جذبہ موجود ہے؟ کیا کوئی عقلمند یہ پسند کر سکتا ہے کہ ایک اچھی چیز اُسے تو ملے مگر اُس کی اولا د اُس سے محروم رہے۔پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی قدر و قیمت جانتا ہے، وہ پسند کرے گا کہ وہ اُس کے ورثاء کو نہ ملے لیکن اُس کی زمین اور اُس کے مکانات اُنہیں مل جائیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو دین کو نعمت قرار دیتا ہے، مگر وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی دعویدار ہے اس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اول تو اپنی اولاد کو دین سے محروم رکھتے ہیں اور پھر جب وہ شرارت کریں تو اُن کی مدد کرتے ہیں۔حالانکہ وہ بعض ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ جن پر شرافت اور انسانیت بھی چلا اٹھتی ہے۔چہ جائیکہ احمدیت اور ایمان کے متحمل ہوسکیں۔مگر ایسے مجرموں کے والدین، بھائی، رشتہ دار بلکہ دوست اُن کی مدد کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسا کرنے سے ایمان کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ ایسے آدمی کا دین تو آسمان پر اڑ جاتا ہے۔آپ نے فرمایا ۱۲