اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 11

صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لئے یہ قربانیاں کیں، وہ اُس پیغام کے لئے جو آپ لائے ، کیا کچھ قربانیاں نہ کر سکتے ہوں گے۔اور انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا ہوگا ؟ صحابہ نے اس بارے میں جو کچھ کیا، حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ اس کی مثال کے طور پر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔دیکھو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت تھی کہ جب انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں تو بے اختیار ہو کر آپ کے جسم مبارک کو بوسہ دیا، آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے مگر دوسری طرف اُس سچائی سے کتنی محبت تھی جو آپ لائے تھے کہ حضرت عمر جیسا بہا در تلوار لے کر کھڑا ہے کہ جو کہے گا آپ فوت ہو گئے ہیں میں اُسے جان سے مار دوں گا اور بہت سے صحابہ اُن کے ہم خیال ہیں۔مگر باوجود اس کے آپ نڈر ہو کر کہتے ہیں کہ جو کہتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں وہ گویا آپ کو خدا سمجھتا ہے۔میں اُسے بتا تا ہوں کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔مگر وہ خدا جس کی آپ پرستش کرانے آئے تھے وہ زندہ ہے۔یہ سچائی کا اثر تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے دلوں میں پیدا کر دی تھی کہ وہ صحابہ جونگی تلوار میں لے کر کھڑے تھے انہوں نے یہ بات سنتے ہی سر جھکائے اور تسلیم کرلیا کہ ٹھیک ہے، آپ واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں۔پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کو جو بے مثل محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تھی، وہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل ایک لشکر تیار کیا تھا کہ شام کے بعض مخالفین کو جا کر ان کی شرارتوں کی سزا دے۔ابھی ی شکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ منتخب ہوئے اور اکثر صحابہ نے اتفاق کر کے آپ سے عرض کیا کہ اس لشکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے کیونکہ چاروں طرف سے عرب میں بغاوت کی خبریں آ رہی تھیں اور مکہ اور مدینہ اور صرف ایک اور گاؤں تھا جس میں باجماعت نماز ہوتی تھی۔لوگوں نے نمازیں پڑھنی بھی چھوڑ دی تھیں اور لوگوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا تھا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔صحابہ نے حضرت عمر کو حضرت ابوبکر کے پاس 11