اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 45

سے موجود رہے گا۔ہمیں اس بات کو جاننے کی ضرورت ہے اور جائزے کی ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہم میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ شوق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، رمضان میں ایک مہینہ نہیں یا ایک مرتبہ اعتکاف بیٹھ کر پھر سارا سال یا کئی سال اس کا اظہار کر کے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے اس شوق اور لگن کو اپنے اوپر لاگو کر کے، تا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب مستقل طور پر حاصل ہو، ہم میں سے کتنے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پیار کا سلوک کرتے ہوئے دعاؤں کی قبولیت کے نشان دکھاتا ہے، اُن سے بولتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان کر یہ معیار حاصل کرنا یا حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔ہمارے علماء، ہمارے مربیان، ہمارے عہدے داران اپنے اپنے دائرے میں افرادِ جماعت کے سامنے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کی کوشش کے لئے بار بار ذکر نہیں کرتے ، یا اُس طرح ذکر نہیں کرتے جس طرح ہونا چاہئے ، یا اُن کے اپنے نمونے ایسے نہیں ہوتے جن کو دیکھ کر اُن کی طرف توجہ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کا بار بار ذکر کر کے اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور نشانات کے واقعات جو اُن بزرگوں کے ساتھ ہوئے شدت سے نہیں دہرائے جاتے اور یہ یقین پیدا نہیں کرواتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کو کسی خاص وقت اور اشخاص کے لئے مخصوص نہیں کر دیا بلکہ آج بھی اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔اگر ان باتوں کا بار بار ذکر ہو اور یہ تعلق پیدا کرنے کے طریقے بتائے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کیا جائے تو پھر دعا کی قبولیت کے فلسفے کی سمجھ بھی آجاتی ہے اور نشانات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ بات عام طور پر بتانے کی ضرورت ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق سے جڑ کر اللہ تعالیٰ سے قرب کا تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے۔نشانات صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات یا زمانے تک محدود نہیں تھے یا مخصوص نہیں تھے بلکہ اب بھی خدا