امن کے شہزادہ کا آخری پیغام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 65

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 46

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : ایک کبوتری نے غار کے منہ پر گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے۔اور جب سراغ رساں نے لوگوں کو غار کے اندر جانے کی ترغیب دی تو ایک بڑھا آدمی بولا کہ یہ سراغ رساں تو پاگل ہو گیا ہے۔میں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اُس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جبکہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔اس بات کوسُن کر سب لوگ منتشر ہو گئے اور غار کا خیال چھوڑ دیا۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ طور پر مدینہ پہنچے اور مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ کو قبول کر لیا۔اس پر مکہ والوں کا تو غضب بھڑ کا اور افسوس کیا کہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔اور پھر کیا تھا دن رات انہیں منصوبوں میں لگے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں۔اور کچھ تھوڑا گر وہ مکہ والوں کا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا وہ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مختلف ممالک کی طرف چلے گئے۔بعض نے حبشہ کے بادشاہ کی پناہ لے لی تھی اور بعض مکہ میں ہی رہے کیونکہ وہ سفر کرنے کے لئے زاد راہ نہیں رکھتے 46