امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 44
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : کوئی متکفل نہ تھا اور پچیس برس تک پہنچ کر کسی چانے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی۔کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا۔آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متحمل ہو سکیں اور نیز محض اتمی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے۔پھر جب آپ چالیس برس کے سن تک پہنچے تو ایک دفعہ آپ کا دل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے جس کا نام حرا ہے۔آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے اور خدا کو یاد کرتے۔ایک دن اُسی غار میں آپ پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے اور زمین گناہ سے آلودہ ہوگئی ہے اس لئے میں تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجتا ہوں۔اب تو لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں۔اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک اُمی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں اور عرض کیا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔جب خدا نے آپ کے سینہ میں تمام روحانی علوم بھر دیئے اور آپ کے دل کو روشن کر دیا۔آپ کی قوت 44