امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 42
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : اور تنہا پھرتا تھا۔آخر کوئی روحانی طاقت تھی جو ان کو سفلی مقام سے اٹھا کر اوپر کو لے گئی اور عجیب تر بات یہ ہے کہ اکثر ان کے ان کی کفر کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن اور آنجناب کے خون کے پیاسے تھے پس میں تو اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ نہیں سمجھتا کہ کیونکر ایک غریب مفلس تنہا بے کس نے ان کے دلوں کو ہر ایک کینہ سے پاک کر کے اپنی طرف کھینچ لیا یہاں تک کہ وہ فخر یہ لباس پھینک کر اور ٹاٹ پہن کر خدمت میں حاضر ہو گئے۔جہاد کا غلط تصور بعض نا سمجھ جو اسلام پر جہاد کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ جبر اتلوار سے مسلمان کئے گئے تھے۔افسوس ہزار افسوس کہ وہ اپنی بے انصافی اور حق پوشی میں حد سے گذر گئے ہیں۔ہائے افسوس ان کو کیا ہو گیا کہ وہ عمد اصیح واقعات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے تا یہ گمان کیا جاتا کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت اور 42