امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 41
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : اُن میں تھوڑے ہی دنوں میں ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی کہ وہ وحشیانہ حالت سے انسان بنے اور پھر انسان سے مہذب انسان اور مہذب انسان سے باخدا انسان اور آخر خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے محو ہو گئے کہ انہوں نے ایک بے حس عضو کی طرح ہر ایک دُکھ کو برداشت کیا۔وہ انواع اقسام کی تکالیف سے عذاب دیئے گئے اور سخت بیدردی سے تازیانوں سے مارے گئے اور جلتی ہوئی ریت پر لٹائے گئے اور قید کئے گئے اور بھوکے اور پیاسے رکھ کر ہلاکت تک پہنچائے گئے مگر انہوں نے ہر ایک مصیبت کے وقت قدم آگے رکھا۔اور بہتیرے ان میں ایسے تھے کہ ان کے سامنے ان کے بچے قتل کئے گئے اور بہتیرے ایسے تھے کہ بچوں کے سامنے وہ سولی دیئے گئے اور جس صدق سے انہوں نے خدا کی راہ میں جانیں دیں اس کا تصور کر کے رونا آتا ہے۔اگران کے دلوں پر یہ خدا کا تصرف اور اس کے نبی کی توجہ کا اثر نہ تھا تو پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو اسلام کی طرف کھینچ لیا اور ایک فوق العادت تبدیلی پیدا کر کے ان کو ایسے شخص کے آستانہ پر گرنے کی رغبت دی کہ جو بے کس اور مسکین اور بے زری کی حالت میں مکہ کی گلیوں میں اکیلا 41