امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 39
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : زیادہ بگڑی ہوئی قوم عیسائی قوم تھی اور ان کی بد چلدیاں عیسائی مذہب کی عار اور ننگ کا موجب تھیں اور خود قرآن شریف بھی اپنے نزول کی ضرورت کے لئے یہ آیت پیش کرتا ہے : ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (سوره روم :۴۲) یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ کوئی قوم خواہ وحشیانہ حالت رکھتی ہیں اور خواہ نظمندی کا دعوی کرتی ہیں فساد سے خالی نہیں۔اب جبکہ تمام شہادتوں سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگ کیا مشرقی اور کیا مغربی اور کیا آریہ ورت کے رہنے والے اور کیا عرب کے ریگستان کے باشندے اور کیا جزیروں میں اپنی سکونت رکھنے والے سب کے سب بگڑ گئے تھے اور ایک بھی نہیں تھا جس کا خدا کے ساتھ تعلق صاف ہو اور بدعملیوں نے زمین کو نا پاک کر دیا تھا تو کیا ایک نظمند کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ یہ وہی وقت اور وہی زمانہ تھا جس کی نسبت عقل تجویز کر سکتی ہے کہ ایسے تاریک زمانہ میں ضرور کوئی عظیم الشان نہیں آنا چاہئے تھا۔39