امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 35
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام نہایت نیک نیتی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ نا جائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کر لیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بد گوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں ۔ وہ نہ صرف بے جا مداخلت سے جسکے ساتھ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ خدا کے گنہگار ہیں بلکہ وہ اس گناہ کے بھی مر تکب ہیں کہ بنی نوع میں نفاق اور دشمنی کا بیج ہوتے ہیں۔ آپ دل تھام کر اس بات کا مجھے جواب دیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے یا اس کی ماں پر کوئی تہمت پر ہولی لگاوے تو کیا وہ اپنے باپ کی عزت پر آپ حملہ نہیں کرتا اور اگر وہ شخص جس کو ایسی گالی دی گئی ہے جواب میں اسی طرح گالی سنا دے تو کیا یہ کہنا بے محل ہوگا کہ بالمقابل گالی دیئے جانے کا دراصل وہی شخص موجب ہے جس نے گالی دینے میں سبقت کی اور اس صورت میں وہ اپنے باپ اور ماں کی عزت کا خود دشمن ہوگا۔ بتوں کو بھی گالیاں دینے کی ممانعت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ 35