امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 29
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : سیار و اصلح جیسی کوئی بھی چیز نہیں۔آؤ ہم اس معاہدہ کے ذریعہ پیارو! سے ایک ہو جائیں اور ایک قوم بن جائیں۔آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کس قدر پھوٹ پڑ گئی ہے اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے آداب یہ بھی آزمالو کہ با ہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔بہترین طریق صلح کا یہی ہے۔ورنہ کسی دوسرے پہلو سے صلح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ ایک پھوڑے کو جو شفاف اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں اور اس کی ظاہری چمک پر خوش ہو جائیں حالانکہ اس کے اندرسری ہوئی اور بد بودار پیپ موجود ہے۔مجھے اس جگہ ان باتوں کے ذکر کرنے سے کچھ غرض نہیں کہ وہ نفاق اور فساد جو ہندو اور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتا ہے اس کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں۔مثلاً ہندوؤں کو ابتداء سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک کے معاملات میں ان کا دخل ہو یا کم سے کم یہ کہ ملک داری کے معاملات میں ان کی رائے لی جائے اور گورنمنٹ ان کی ہر ایک شکایت کو توجہ سے سنے۔اور 29